مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 145 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 145

۱۴۵ ۱۹۳۲ء مضامین بشیر حقیقی اور کامل تعریف محمد بهشت برہان محمد مصرع مندرجہ عنوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ کے ایک قصیدہ سے ماخوذ ہے جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت میں منظوم فرمایا تھا۔میں نے بہت غور کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں جو الفاظ انسانوں کی طرف سے کہے گئے ہیں خواہ وہ اپنے ہوں یا برگا نے ان میں مصرع مندرجہ بالا سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح اور حقیقی اور کامل تعریف کا حاصل اور کوئی فقرہ نہیں۔سب سے بڑا با کمال بے شک دنیا میں تعریف کے مستحق لاکھوں انسان گزرے ہیں اور ان میں سے بعض نے وہ مرتبہ پایا ہے کہ آنکھ ان کی رفعت اور روشنی کو دیکھ کر خیرہ ہوتی ہے اور یہ با کمال لوگ پائے بھی ہر میدان میں جاتے ہیں یعنی دین و دنیا کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو ان لوگوں کے وجود سے خالی ہو مگر ان میں سے کون ہے؟ جس کی ہستی کا ہر پہلو اس کے کمال پر شاہد ہو۔کون ہے جس کے وجود کا ہر ذرہ اس کے نور باطن کا پتہ دے رہا ہو؟ کون ہے جس کی ذات والا صفات کا ہر خلق اس کی یگانگت کی دلیل ہو؟ یقیناً یہ کمال صرف مقدس بانی اسلام (فداہ نفسی) کے ساتھ مخصوص ہے اور کوئی دوسرا انسان اس صفت میں آپ کا شریک نہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کے حسنِ خدا داد نے دنیا سے خراج تحسین حاصل کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ید بیضا نے ایک عالم کی آنکھ کو مسخر کر دیا۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے دم عیسوی سے روحانی مُردوں نے زندگی پائی مگر باوجود اپنے روحانی کمال کے حضرت مسیح ناصری نے موسیٰ علیہ السلام کا ید بیضا نہ پایا۔حضرت موسی کو باوجود اپنی رفعت شان کے حسنِ یوسف سے محرومی