مضامین بشیر (جلد 1) — Page 147
۱۴۷ مضامین بشیر وآلہ وسلم کا سوانح نگار ہوں اور خدا کے فضل سے آپ کے حالات زندگی کا کسی قدر مطالعہ رکھتا ہوں۔اور میں نے آپ کے سوانح کا مطالعہ بھی ایک آزاد تنقیدی نظر کے ساتھ کیا ہے۔میں اس معاملہ میں اپنی ذاتی ( گو معاملہ کی اہمیت کے مقابلہ میں نہایت ناچیز ) شہادت پیش کرتا ہوں کہ میں نے جب کبھی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف و محاسن کا جائزہ لے کر آپ کے وجود میں کسی امتیازی خاصہ کی تلاش کرنی چاہی ہے تو میری نظر ہمیشہ ماند ہو ہو کر لوٹ گئی ہے اور کبھی کامیابی نہیں ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت نے اپنے نبی میں اوصاف جلالی کا نور دیکھا تو اسے لے کر اپنے بانی کی تعریف میں پل باندھ دیئے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے تبعین نے اپنے مسیح کے اوصاف جمالی کا نظارہ کیا تو اس سے مسحور ہو کر انہیں خدا کے پہلو میں جا بٹھایا۔گوتم بدھ کے نام لیووں نے اپنے بانی کی نفس کشی اور فنائیت کو دیکھ کر اس کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔مگر اسلام کا بانی خدائے ذوالعرش کی کامل تصویر تھا اس لئے اس کے کمال نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کا کوئی وصف اس کے کسی دوسرے وصف سے ہیٹا ہو۔وہ اپنی امت کی کامل اصلاح کا پیغام لایا تھا اس لئے اس کی تصویر کا کوئی رنگ اس کے دوسرے رنگوں سے مغلوب نہیں ہوا۔تا ایسا نہ ہو کہ اس کے متبع اس کے غالب رنگ سے متاثر ہوکر اصلاح کے ایک پہلو میں نفع اور دوسرے میں نقصان کا طریق اختیار کر لیں۔قدرت نے اس کے تمام قوائے فطری کی ایک سی آبپاشی کی اور اس کے وجود میں اپنے اس فعل کو کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تقویم ۱۴ تک پہنچا دیا اسی واسطے جہاں دوسرے نبیوں کی بعثت کے لئے الہی کلام میں ان کے حسب حال اور اور رنگ کے استعارے استعمال کئے گئے ہیں۔وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو خدا تعالیٰ نے خود اپنی آمد کہہ کر پکارا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس طرح خدا کی ہستی کی بہترین دلیل خود خدا کی ذات ہے جو بغیر کسی بیرونی توسل کے خود اپنی قدرت و جبروت کے زور سے اپنے آپ کو منواتی ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال کی بہترین دلیل خود آپ کا وجود با جود ہے۔جو اپنے ہر وصف میں ایک سی کشش اور ایک سی طاقت کے ساتھ دنیا سے خراج تحسین حاصل کر رہا ہے۔نا در کرشمہ قدرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خصوصیت صرف ان روحانی کمالات تک محدود نہیں جو نبوت کے ساتھ مخصوص ہیں۔بلکہ اس نادر کرشمہ قدرت نے دین و دنیا کے جس میدان میں قدم رکھا ہے