مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 131 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 131

۱۳۱ مضامین بشیر محمد هست بُرہانِ محمد مکرمی ایڈیٹر صاحب الفضل السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمائش کی تھی کہ میں ” الفضل“ کے خاتم النبیین نمبر کے لیئے کوئی مضمون لکھوں۔ایسی تحریک میں حصہ لینا ہر مسلمان کے واسطے موجب سعادت اور باعث فخر ہونا چاہیئے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں بعض معذوریوں کی وجہ سے کوئی مضمون نہیں لکھ سکا اور مجھے اس محرومی کا قلق ہے۔میرا ارادہ تھا کہ میں مصرع مندرجہ عنوان کے متعلق کچھ لکھوں گا اور میں نے اپنے ذہن میں اس مضمون کا ایک مختصر سا ڈھانچہ بھی تیار کیا تھا۔لیکن اس ذہنی خاکہ کو سپرد قلم نہ کر سکا۔میرا ارادہ مثالیں دے کر یہ بیان کرنے کا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (فداہ نفسی ) اپنے اس کمال میں منفرد ہیں کہ آپ کا ہر قول اور ہر فعل اور ہر حرکت اور ہر سکون اور ہر عادت اور ہر خلق آپ کی صداقت اور آپ کی فضیلت اور آپ کے کمال کی ایک روشن دلیل ہے اور اس خصوصیت میں آپ جملہ بنی آدم پر ممتاز اور فائق ہیں کیونکہ دنیا میں اور کوئی شخص ایسا نہیں گذرا جس کی ہر بات اس کے کمال کی دلیل ہو۔اور اسی لئے سید ولد آدم“ کا خطاب پانے کے لئے آپ کے سوا اور کوئی شخص حقدار نہیں۔یہ مضمون ایک نہایت وسیع مضمون ہے اور تاریخی واقعات کی روشنی میں اسے نہایت مدلل اور دلچسپ طریق پر بیان کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ اس موقع پر جو ایسے مضمون کے واسطے ایک بہت عمدہ موقع تھا۔میں اس مضمون کے بیان کرنے سے محروم رہا ہوں۔اگر زندگی رہی اور خدا نے توفیق دی تو انشاء اللہ پھر کبھی عرض کروں گا۔وما توفیقی الا بالله اگر مناسب سمجھیں تو میری طرف سے یہ چند سطور اخبار میں شائع فرما دیں تا کہ احباب کی دُعا میں تھوڑا سا حصہ میں بھی پاسکوں۔خاکسار مرزا بشیر احمد مطبوعه الفضل ۱۲ جون ۱۹۲۸ء)