مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 5

خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ " نہیں فرمایا۔کیا مومنوں کی علامات میں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کے نہیں رکھا گیا ؟ (افسوس ہے یہاں اشداء بينهم اور رحماء على الكفار پر عمل ہو رہا ہے دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا د یوے۔پھر اگر وہ سچ کو سن کر افروختہ ہو تو ہوا کر۔۔۔اگر نادان مخالف حق کی مرارت اور تلخی کو دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کر دے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہیئے۔کیا اس قسم کی گالیاں پہلے کفار نے کبھی نہیں دیں۔اسلام نے مداہنہ کو کب جائز رکھا اور ایسا حکم قرآن شریف کے کس مقام میں موجود ہے بلکہ اللہ جلشانہ مداہنہ کی حمایت میں صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے باپوں یا اپنی ماؤں کے ساتھ بھی ان کی کفر کی حالت میں مداہنہ کا برتاؤ کریں وہ بھی ان ہے جیسے ہی بے ایمان ہیں اور کفار مکہ کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا وَدُّرُ الوُتُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ هوه تلخ الفاظ جو ا ظہا ر حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سُنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تامداہنہ کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی۔۔۔سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے اگر چہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ہی تحریک رو بحق کرنے کے لئے پہلا زینہ ہے۔جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا۔لیکن مواد کے ظہور اور بروز کے وقت ہر ایک طور کی تدبیر ہوسکتی ہے۔انبیاء نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے۔اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہو جائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگا ہیں دوڑانا شروع کر دیں۔اور اس راہ میں حرکت کریں۔گو وہ مخالفانہ حرکت مضامین بشیر