مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 6

مضامین بشیر ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیں۔گو وہ عدوانہ تعلق ہی کیوں نہ ہو۔۔۔دراصل تہذیب حقیقی کی راہ وہی راہ ہے جس پر انبیاء علیہم السلام نے قدم مارا ہے جس میں سخت الفاظ کا داروئے تلخ کی طرح گاہ گاہ استعمال کرنا حرام کی طرح نہیں سمجھا گیا بلکہ ایسے درشت الفاظ کا اپنے محل پر بقدر ضرورت و مصلحت استعمال میں لانا ہر ایک مبلغ اور واعظ کا فرض وقت ہے جس کے ادا کرنے میں کسی واعظ کا سستی اور کا ہلی اختیار کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ غیر اللہ کا خوف جو شرک میں داخل ہے اس کے دل پر غالب اور ایمانی حالت اس کی ایسی ضعیف اور کمزور ہے جیسے ایک کیڑے کی جان ضعیف اور کمزور ہوتی ہے۔‘2۔یہ ہیں الفاظ ہمارے آقا کے، ہمارے ہادی کے ، ہمارے مرشد کے، ہمارے امام کے ، دیکھیں ے امام کے، دیکھیں اس کے غلاموں پر ان کا کیا اثر ہوتا ہے چوں چرا کرتے ہیں یا سر تسلیم خم۔میں آخر میں یہ اشارہ کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ نرمی استعمال کرنے اور دل خوش کن باتیں کہنے سے اختلاط کا ڈر ہوتا ہے اور اختلاط کے بدنتائج سے تو غالباً اکثر لوگ واقف ہی ہوں گے۔سواے قوم! تو خواب غفلت سے جاگ اور اپنے فرض منصبی کو پہچان۔اس راہ پر قدم مارجس پر تیرا امام تجھ کو ڈال گیا ہے۔تو ایک قطرہ ہے جس کو تو نہیں جانتی کہ کن کن محنتوں ، کن کن مشقتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر کے کن کن مصیبتوں کو جھیل کر ، دنوں کو خرچ کر کے، راتوں کو جاگ جاگ کر ، جبینِ نیا ز کو تنہائی میں اپنے مولیٰ کے سامنے خاک پر رگڑ رگڑ کے ایک شخص نے صاف کیا ہے۔آہ! کیا اس کی محنت کا یہ ہی اجر ہے کہ اس کے صاف کئے ہوئے قطرے کو پھر گندے سمندر میں پھینک دیا جاوے؟ فتدبر اختلاط کے نتائج پر انشاء اللہ حسب توفیق پھر کبھی لکھوں گا۔( مطبوعه الفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۱۳ء)