مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 4 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 4

مضامین بشیر لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله پر ایمان لے آؤ۔پھر ہم تم بھائی ہیں ورنہ یا د رکھو کہ جنگل کے درندوں اور زہریلے سانپوں سے ہماری صلح ہونی ممکن ہے مگر تم سے ناممکن۔اب اگر حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد احمد یہ سرکل میں سے کوئی فرد یا جماعت یہ آواز اٹھائے کہ غیر احمدیوں سے صلح کی جاوے تو اس کے لئے ہم اپنے آقا کے نقش قدم پر چل کر علی بصیرہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب سے بڑی شرط یہ ہو کہ غیر احمدی اپنے مسیح کو مار کر خدا کے مسیح اور مہدی کو مان لیں اور اسی کے سایہ عاطفت کے نیچے آجاویں۔پھر وہ ہمارے بھائی ہوں گے لیکن اگر وہ اس شرط کو قبول نہ کریں جس طرح ہندوؤں نے ہماری آواز پر لبیک نہ کہا تو یاد رکھیں کہ جنگل کے درندوں اور زہریلے سانپوں سے ہماری صلح ممکن ہے مگر ان کے ساتھ ناممکن۔پھر ایک اور بات ہے وہ یہ کہ دنیا میں دو ہی قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔دینی اور دنیوی۔دینی تعلقات میں سب سے بڑا تعلق عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیا میں رشتہ داری سب سے بڑا تعلق سمجھا جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ان دونوں بڑے تعلقات کو جو احمدی اور غیر احمدیوں کے درمیان ہو سکتے تھے ہمیشہ کے لئے قطع کر دیا ہے۔دین میں حکم دیا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز بالکل نہ پڑھو۔مر جائیں تو جنازہ کوئی نہیں۔دنیا کے لئے فرمایا کہ غیر احمدی کولڑ کی نہ بینا۔اب باہم تعلق کی بات ہی کونسی رہ گئی۔یہ ہی باتیں ہیں جن سے نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو روکا۔ورنہ کفار کے ساتھ لین دین کے معاملات اور معمولی تعلقات تو اصحاب بھی رکھتے تھے۔یہ ایک بڑا باریک نکتہ ہے جو غور کرنے والے کے لیئے کافی ہے۔ع کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے اب ہم اس مضمون کی تائید میں جو ہم نے شروع میں لکھا ہے حضرت صاحب کی تحریر پیش کرتے ہیں۔آپ ازالہ اوہام حصہ اول میں فرماتے ہیں :- بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہوا اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدرمرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لا زم حال ہوا کرتی دشنام دہی تصور کر لیتے ہیں اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں۔تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے کیا۔ہے