مضامین بشیر (جلد 1) — Page 102
مضامین بشیر ۱۰۲ میں نفاق کی ضرور آمیزش ہے اور چونکہ اس وقت سب حاضرین اپنی اپنی جگہ اطمینان رکھتے ہوں گے کہ اگر ہم میں سے کوئی موٹا بھی ہے تو وہ تفتیش کے نتیجہ میں موٹا نہیں ہوا۔اس لئے کسی کے دل میں حضرت صاحب کی یہ بات نہیں کھٹکی۔ڈاکٹر صاحب ضد کی وجہ سے انکار کر دیں تو الگ بات ہے ورنہ یقیناً وہ اس بات سے نا واقف نہیں ہوں گے کہ بسا اوقات ایک لفظ مطلق استعمال کیا جاتا ہے لیکن دراصل وہ مقید ہوتا ہے اور بعض غیر مذکور شرائط کے ماتحت اس کے وسیع معنی مقصود نہیں ہوتے اور اس بات کا پتہ قرائن سے چلتا ہے کہ یہاں یہ لفظ اپنے کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔قرآن شریف وحدیث میں اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔چنانچہ اگر ڈاکٹر صاحب اصول فقہ کی کوئی کتاب مطالعہ فرمائیں تو ان کو میرے اس بیان کی تصدیق مل جائے گی۔خلاصہ کلام یہ کہ اگر راوی کے شک کو نظر انداز کرتے ہوئے یہی مان لیا جائے کہ خواجہ صاحب اس مجلس میں ضرور موجود تھے اور پھر واقعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ وہ اس وقت بھی موٹے تھے تو پھر بھی اس روایت کے ماننے سے کوئی حرج لازم نہیں آتا۔کیونکہ اس وقت حضرت صاحب کے سامنے وہ لوگ تھے جو روز کے ملنے والے تھے اور آپ کے طریق وعادات سے خوب واقف تھے اور حضرت صاحب کو بھی یہ حسن ظنی تھی کہ وہ واقف حال اور فہمیدہ لوگ ہیں۔عام حالات میں میرے الفاظ سے کوئی غلط مفہوم نہیں نکالیں گے۔پس ایسے لوگوں کے سامنے اگر حضرت صاحب نے آزادی سے وہ الفاظ فرما دیے ہوں تو ہرگز قابل اعتراض نہیں۔اس بحث کو ختم کرنے سے قبل یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ اس جگہ منافق سے مراد وہ منافق نہیں ہے جو دل میں تو کافر ہوتا ہے لیکن کسی وجہ سے ظاہر اپنے آپ کو مومن کرتا ہے بلکہ ایسا شخص مراد ہے جو دل میں بھی جھوٹا نہیں جانتا۔لیکن اس کا ایمان اس درجہ ناقص ہوتا ہے کہ اس کے اعمال پر کوئی اثر نہیں کر سکتا۔اور نہ غیروں کی محبت اس کے دل سے نکال سکتا ہے۔دراصل قرآن شریف وحدیث سے پتہ لگتا ہے کہ نفاق کئی قسم کا ہوتا ہے۔اور ایسے شخص کی حالت کو بھی حالت نفاق سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے کہ جو ویسے تو دل سے ہی ایمان لاتا ہے اور اپنا ایمان ظاہر بھی کرتا ہے لیکن اس کا ایمان ایسا کمزور ہوتا ہے کہ اس کے اعمال و عادات عموماً غیر مومنانہ رہتے ہیں اور اس کا دل بھی غیروں کے تعلقات سے آزاد نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے لوگ منافق سمجھے جاتے تھے لیکن موجودہ