مضامین بشیر (جلد 1) — Page 101
موجود نہ ہوں۔1+1 مضامین بشیر بہر حال جبکہ روایت کی رو سے خواجہ صاحب کے وہاں موجود ہونے اور نہ ہونے ہر دو کا احتمال موجود ہے تو ڈاکٹر صاحب کا یہ اعتراض کسی عقل مند کے نزدیک قابل توجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔دوسرے یہ کہ غالبا ڈاکٹر صاحب بھول گئے ہیں کہ خواجہ صاحب موصوف ہمیشہ سے اسی طرح کے موٹے اور فربہ نہیں چلے آئے بلکہ اوائل کے دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ شروع میں خواجہ صاحب ایک درمیانے جسم کے آدمی تھے۔چنانچہ غالبا خود خواجہ صاحب اس امر کی شہادت دے سکیں گے کہ ان کے والد صاحب مرحوم یعنی جناب خواجہ عزیز الدین صاحب کبھی کبھی ہنستے ہوئے پدرانہ آزادی کے ساتھ یہ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ پشاور کے سنڈوں کا گوشت کھا کھا کر خود بھی سنڈا ہو گیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ وکالت کے لئے پشاور جانے سے قبل اور نیز پشاور کے ابتدائی ایام میں خواجہ صاحب اس تن و توش کے آدمی نہ تھے۔الغرض جناب خواجہ صاحب ہمیشہ سے ہی اس فربہی کے مالک نہیں رہے۔اور اس لئے بالکل ممکن بلکہ اغلب ہے کہ جو روایت مولوی شیر علی صاحب نے بیان کی ہے وہ اس زمانہ کی ہو جب کہ خواجہ صاحب زیادہ موٹے آدمیوں میں شمار نہ ہوتے ہوں۔جیسا کہ خود ہمارے محترم را وی صاحب بھی ان دنوں میں جسم کے ہلکے ہوتے تھے۔مگر بعد میں جسم بھاری ہو گیا۔تیسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ بیشک حضرت مسیح موعود کا یہ طریق تھا کہ آپ مجلس میں کوئی ایسا ریمارک نہیں فرماتے تھے کہ جو کسی کا دل دکھانے والا ہو لیکن جس قسم کی مجلس کا روایت کے اندر ذکر ہے وہ ایک ایسے لوگوں کی مجلس تھی جو عمو ماً حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔اور آپ کے طریق واخلاق و عادات سے اچھی طرح واقف تھے۔اور حضرت صاحب بھی ان کے ساتھ بہت بے تکلفی کے ساتھ ملتے اور گفتگو فرماتے تھے اور یہ لوگ ویسے بھی تعلیم یافتہ اور سمجھدار تھے۔پس ایسی مجلس کے اندر حضرت صاحب نے اگر وہ الفاظ فرما دیئے ہوں کہ جن کا روایت میں ذکر آتا ہے تو ہر گز قابل تعجب نہیں۔کیونکہ حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ یہ لوگ میرے صحبت یافتہ اور میرے طرز وطریق سے واقف اور فہمیدہ لوگ ہیں اس لئے وہ میرے الفاظ سے کوئی ایسا مفہوم نہیں نکالیں گے کہ جو غلط ہو اور میرے طریق کے خلاف ہو۔چنانچہ اس وقت کے حاضرین مجلس میں۔کسی کو اس طرف خیال تک نہیں گیا کہ حضرت صاحب نے عوذ باللہ کوئی دل آزار بات کہی ہے۔بلکہ سب یہی سمجھے کہ آپ کا یہ منشاء ہر گز نہیں کہ محض بدن کا موٹا ہونا منافقت کی علامت ہے خواہ وہ کسی وجہ سے ہو۔بلکہ منشاء یہ ہے کہ آرام طلبی اور تعیش وغیرہ کے نتیجہ میں جو شخص موٹا ہو گیا ہو اس کے ایمان