مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 96

مضامین بشیر ۹۶ عداوت کی پٹی بندھی ہوئی نہ ہو ان الفاظ سے نہیں نکال سکتا۔جو میں نے لکھے تھے۔اور اس موقع پر میں اس افسوس کا اظہار کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ ڈاکٹر صاحب نے اس اعتراض میں حضرت والدہ صاحبہ کے ادب واحترام کو بھی کما حقہ ملحوظ نہیں رکھا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جس لب ولہجہ میں ڈاکٹر صاحب نے حضرت والدہ صاحبہ کا ذکر کیا ہے اس لب ولہجہ میں وہ کبھی اپنی والدہ ماجدہ کا ذکر کر نے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔اس صورت میں کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حرم کا جسے خود حضرت مسیح موعود نے اُم المومنین کے مقدس نام سے یاد کیا ہے، اس قدر احترام وادب نہ ہو جیسا کہ ان کو اپنی والدہ کا ہے۔میں اس امر کے متعلق زیادہ نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ ڈرتا ہوں کہ میرے متعلق ذاتیات کا الزام نہ قائم کر دیا جائے مگر مجھے اس کا افسوس ضرور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر غیرت مند احمدی کو اس کا افسوس ہونا چاہیئے۔حمید تیسری مثال جو ڈاکٹر صاحب نے سیرۃ المہدی سے پیش فرمائی ہے ، وہ مولوی شیر علی صاحب کی ایک روایت ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دفعہ چند لوگ جن میں خود مولوی صاحب بھی تھے اور غالباً مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے آپ کے مکان کے اندر گئے۔اس وقت آپ نے چند خربوزے انہیں کھانے کے لئے دیئے۔اتفاق سے جوخر بوزہ مولوی شیر علی صاحب کو دیا وہ بڑا اور موٹا تھا آپ نے یہ خربوزہ مولوی صاحب کو دیتے ہوئے فرمایا کہ دیکھیں یہ کیسا ہے پھر خود مسکراتے ہوئے فرمایا کہ موٹا آدمی منافق ہوتا ہے۔یہ خربوزہ بھی پھیکا ہی ہو گا۔چنانچہ مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ خربوزہ پھیکا ہی نکلا۔اس روایت کو نقل کر کے ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ایک عجیب خودساختہ نتیجہ نکال کر بڑے فخریہ طور پر یہ اعتراض جمایا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں : - وو اس روایت میں خواجہ کمال الدین صاحب پر زد کرنی مقصود تھی۔وہ موٹے تھے۔اس لئے حضرت صاحب کی زبان سے ایک قاعدہ گھڑوایا گیا کہ موٹا آدمی منافق 66 ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ خواجہ صاحب منافق ہیں۔“ میں اس کے جواب میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اگر میں نے یہ روایت خواجہ صاحب پر زد کرنے کی غرض سے گھڑ کر بیان کی ہو تو میں اس لعنت سے بچ نہیں سکتا جو خدا کے ایک مامور و مرسل پر افترا باندھنے والے پر پڑتی ہے اور اگر ایسا نہیں تو ڈاکٹر صاحب بھی خدائے غیور کے : مطبوعه الفضل ۳ ستمبر ۱۹۲۶ء