مضامین بشیر (جلد 1) — Page 97
۹۷ مضامین بشیر سامنے ہیں۔بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔اس اعتراض میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے انتہائی بغض وعداوت سے کام لے کر مجھ پر یہ خطرناک الزام لگایا ہے کہ خواجہ صاحب پر ز د لگانے کی نیت سے میں نے یہ روایت خود اپنی طرف سے گھڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کردی ہے۔یہ ڈاکٹر صاحب کے ظلم کی انتہا ہے مگر میں کچھ نہیں کہتا۔اِنَّمَا أَشْكُوا بَقِي وَحُزْنِيِّ إِلَى الله ۳۷ اور پھر ڈاکٹر صاحب نے اس الزام کے لگا دینے پر ہی بس نہیں کی بلکہ حسب عادت تمسخر اور استہزاء سے بھی کام لیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں : - ,, جامع الروایات کو فکر پڑی کہ وہ خود بدولت بھی ایک حد تک موٹے ہیں۔اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بھی موٹے تھے۔میر ناصر نواب مرحوم موٹے تھے ایک زمانہ تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم موٹے تھے۔میر محمد اسحاق موٹے۔حافظ روشن علی موٹے۔خود مولوی شیر علی را وی موٹے۔اجی موٹوں کی تو ایک فہرست ہے جو گنے لگوں تو خواہ نخواہ وقت ضائع ہو۔“ مکرم ڈاکٹر صاحب وقت کی آپ فکر نہ فرمائیں آپ کا وقت ما شاء اللہ انہی باتوں کے لئے وقف ہے۔اپنی طبیعت کے ان فطری بخارات کو ایک دفعہ دل کھول کر نکل جانے دیں۔ورنہ یہ مادہ اگر یہاں دب گیا تو کہیں اور جا پھوٹے گا۔اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر کہیں غلطی سے آپ کسی اپنے جیسے کو مخاطب کر بیٹھے تو پھر خیر نہیں۔ڈاکٹر صاحب کا ایک اعتراض تو یہ ہے کہ میں نے یا مولوی شیر علی صاحب نے یہ روایت اپنی طرف سے گھڑ لی ہے تا کہ خواجہ صاحب کو منافق ثابت کیا جائے۔اس کا ایک جواب تو دے دیا گیا ہے۔کہ اگر ہم نے یہ روایت اپنی طرف سے گھڑی ہے تو لعنت الله على من افترى اور خواجہ صاحب کو منافق ثابت کرنے کے متعلق یہ جواب ہے کہ اس روایت کے بیان کرنے میں میری نیت ہر گز یہ نہ تھی کہ خواجہ صاحب یا کسی اور صاحب پر زد کی جائے۔والله على اقول شهيداور جب کہ خود ڈاکٹر صاحب بڑی مہربانی سے مجھے یہ بات یاد دلاتے ہیں کہ میں خود ایک حد تک موٹا ہوں تو پھر کون عقل مند یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس روایت کے بیان کرنے میں میرے دل میں کوئی ایسی نیست ہوسکتی ہے جو خود میرے ہی خلاف پڑتی ہو۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ میرے دل میں خواجہ صاحب کی اس قدر عداوت بھری ہوئی ہے کہ میں ان کو منافق ثابت کرنے کے لئے خود اپنے ایمان پر بھی تبر رکھ سکتا ہوں۔میں نے تو صاف لکھ دیا تھا کہ درایتہ حضرت صاحب کے اس قول سے یہ مراد نہیں ہو سکتا کہ موٹاپا اور منافقت لازم و ملزوم ہیں۔بلکہ