مضامین بشیر (جلد 1) — Page 95
۹۵ مضامین بشیر بغیر استعداد اور قابلیت پر غور کئے ایک شخص کے ہاتھ میں پکڑا دینے کو تیار تھا۔حضرت صاحب کی شان پر خطر ناک حملہ ہے۔یہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یا تو ان الفاظ کا لکھنے والا مشورہ کی حقیقت سے بالکل نا واقف ہے اور یا ہماری عداوت میں اس کا دل ایسا سیاہ ہو چکا ہے کہ وہ دیدہ دانستہ محض ایک غلط نتیجہ نکال کر اور میری طرف وہ بات منسوب کر کے جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آئی خلق خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ گفتگو مشورہ کی غرض سے ہی تھی تو ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ آپ نے اپنے ایک دلی مونس اور رفیق دیر بینہ کی رائے معلوم کرنی چاہی تھی۔تا کہ اگر وہ مفید ہو اور قابل قبول ہو تو آپ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔نہ یہ کہ آپ کا یہ منشاء تھا کہ بس جو کچھ بھی حضرت ام المومنین کے منہ سے نکلے اس کے آپ پابند ہو جائیں گے اور اپنے فکر و غور سے ہرگز کوئی کام نہیں لیں گے اور نہ ہی دعا اور استخارہ سے خدائے علیم وقدیر سے استعانت فرمائیں گے۔یہ محض ایک جہالت کا استدلال ہے جس کی نہ معلوم ڈاکٹر صاحب کے دل و دماغ نے انہیں کس طرح اجازت دی ہے۔اگر یہ مشورہ ہی تھا تو ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مشورہ کے تمام لوازمات کو پورا فرمایا ہوگا۔یعنی جہاں ایک طرف آپ نے مشورہ کیا تھا وہاں ساتھ ہی اپنے غور و فکر سے بھی کام لیا ہوگا۔دعا ئیں بھی فرمائی ہوں گی اور استخارے بھی کئے ہوں گے۔اور پھر وہی کیا ہوگا جس پر بالآخر آپ کو شرح صدر حاصل ہوا ہوگا۔یعنی یہ کہ خلافت کے معاملہ کو خدا پر چھوڑ دیا جائے۔تا کہ وہ اپنی قدیم سنت کے مطابق خود اپنے تصرف خاص سے لوگوں کے قلوب کو اس شخص کی طرف پھیر دے جو اس منصب کا اہل ہو۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر سوائے چند اشخاص کے ساری جماعت جمع ہو گئی۔اور پھر ان کے بعد حضرت میاں صاحب کو خدا نے اس مقام کے لئے منتخب فرمایا اور جماعت کے قلوب کو ان کی طرف جھکا دیا اور سوائے ایک قلیل گروہ کے سب نے ان کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا۔اور ہزاروں نے رؤیا اور کشوف اور الہام کے ذریعہ تحریک پا کر بیعت کی۔الغرض خواہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس گفتگو کو مشورہ کے رنگ میں سمجھا جائے اور خواہ دوسرے رنگ میں خیال کیا جائے ہر گز کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش نہیں اور مجھے سخت حیرت ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ضمیر نے کس طرح یہ اجازت دے دی کہ ایک صاف اور سادہ بات کو بگاڑ کر ایک ایسا نتیجہ نکالیں جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور کوئی عقل مند آدمی جس کی آنکھوں پر تعصب اور