مضامین بشیر (جلد 1) — Page 64
مضامین بشیر ۶۴ فرماتے رہے تھے کہ دوسرے کو آپ کے ساتھ ساتھ رہ کر آپ کے الفاظ سننے کا موقع مل سکتا۔جن معتبر ذرائع سے آپ کو بغیر اس کے کہ اس روایت میں کوئی ایسا ذکر موجود ہو، یہ سب مخفی علوم حاصل ہو گئے ان کے معلوم کرنے کا مجھے شوق ہے تا کہ میں آپ کی قوت استدلال کا اندازہ کر سکوں۔اور اگر آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ بغیر اس قسم کا ذکر موجود ہونے کے خود بخودا اپنی طرف سے یہ باتیں فرض کر کے اعتراض قائم کر نے لگ جائیں تو دوسرے کے لئے بھی آپ کو یہ حق تسلیم کرنا چاہیئے۔بہر حال جو بنیاد آپ اپنے ان استدلات کی پیش فرمائیں گے۔اس سے زیادہ قوی اور یقینی بنیاد میں اس بات کی پیش کرنے کا ذمہ دار ہوں کہ حضرت والدہ اور حضرت میاں صاحب کو یہ علم کس طرح ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا اس غرض کے لئے تھی کہ خدا تعالیٰ مولودہ کو منگل کے اثر سے محفوظ فرمائے۔افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب دوسروں پر تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات کس طرح سمجھی۔حالانکہ اس کے سمجھنے کے لئے کافی و وافی قرائن موجود ہیں۔لیکن خود بغیر کسی بنیاد کے نتیجہ پر نتیجہ قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔اور پھر طرفہ یہ کہ اپنے ان موہوم نتائج پر اپنی علمی تنقید کی بنیا د رکھتے ہیں۔کیا یہی وہ مضمون ہے جس پر غیر مبایعین کو ناز ہے۔اور جس کے جواب کے لئے میرے نام پیغام صلح کے پر چے خاص طور پر بھجوائے جاتے ہیں تا کہ دنیا پر یہ ظاہر کیا جائے کہ یہ وہ لا جواب مضمون ہے جس کے جواب کے لئے ہم خود خصم کو چیلنج دیتے ہیں مگر کوئی معقول جواب نہیں ملتا۔مکرم ڈاکٹر صاحب خدا آپ کی آنکھیں کھولے۔آپ نے بڑے ظلم سے کام لیا ہے۔میں نے کہاں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود دعا کے لئے کسی اور جگہ تشریف لے گئے جو آپ کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوا کہ کیا وہ جاتے ہوئے فرما گئے تھے کہ میں اس امر کے لئے دعا کرنے جاتا ہوں ؟ پھر میں نے کہاں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی باقاعدہ لمبی دعا کی تھی جو آپ کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوا کہ کیا کوئی شخص حضرت صاحب کے ساتھ ساتھ ہو کر دعا کے الفاظ سنتا جاتا تھا۔آپ نے خود ہی یہ باتیں فرض کر لیں اور پھر ان کی بنا پر خود ہی اعتراض جمادئیے۔آپ کے تخیلات کے زور نے اس چھوٹی سی بات کو ایسا بڑا اور اہم بنا دیا ہے کہ میں اب اصل حقیقت کو عرض کرتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ کے احساسات کو کوئی ناگوار صدمہ نہ پہنچ جائے۔مگر چونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں اس لئے مجبوراً عرض کرتا ہوں بات یہ ہے کہ اس تیرانداز شہزادہ کی طرح جس کا ذکر حالی کی ایک نظم میں آتا ہے آپ کے تخیلات کا تیر ہر جگہ لگا لیکن اگر نہیں لگا تو اصل نشانے پر نہیں لگا۔جس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ اصل نشانہ بالکل قریب اور سامنے تھا اس لئے آپ کے تخیلات اپنے زور میں اسے چھوڑ کر بلند اور دور نکل گئے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے صرف اتنی بات لکھی تھی کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم پیدا