مضامین بشیر (جلد 1) — Page 536
مضامین بشیر ۵۳۶ انکار نہیں کر سکتا اور اس خواب کا ایک لطیف حصہ یہ بھی ہے کہ مولوی محمد یعقوب خانصاحب کو خواب میں ہی ان دلکش پھلوں کے کھانے کی تحریک ہوئی جو اس طرف اشارہ تھا کہ انہیں خلافت حقہ کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔چنانچہ جب انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چند دانوں کو چکھا اور مزا محسوس کیا اور یہ چکھنا اس غرض سے تھا کہ انہیں اس کا مزا محسوس کرایا جائے اور اس کے حاصل کرنے کی تحریک کی جائے تو اس پر فوراً ان کے دل میں ڈالا گیا کہ یہ پھل تو حضرت مولوی صاحب مرحوم کا حصہ اور انہی کا حق ہیں۔کاش ہمارے غیر مبایع اصحاب اس خواب پر غور کریں اور اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔والحکم الله والله خير الحاكمين حضرت مولوی صاحب کی اولا د سے گزارش بالآخر میں حضرت مولوی صاحب کی اولاد اور اپنے نسبتی بھائیوں اور بہنوں اور ان کی اولاد سے بھی جن میں سے کئی اب تک بیعت خلافت سے محروم ہیں، یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مرحوم اس نا پائدار دنیا میں اپنی پاک زندگی کے ایام گزار کر اپنے خدا کے حضور پہونچ چکا ہے اور اس کا انجام ایسا مبارک ہوا ہے کہ ہم سب کے لئے جائے رشک ہے مگر اس کی وفات سے آپ لوگوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر آپ نے اپنے پاک نفس بزرگ کی زندگی اور اس کے نیک انجام کو دیکھتے ہوئے اس رستہ کی طرف قدم نہ اٹھایا جس کی طرف خدائے قدیر کی از لی تقدیر اپنے گونا گوں تصرفات کے ساتھ اسے وفات سے قبل کھینچ لائی تھی تو آپ یقیناً خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔میرے دل میں آپ لوگوں کی بے حد محبت ہے۔پس گو دنیا داری کے اصول کے ماتحت شاید یہ موقع ایسی باتوں کے کہنے کا نہیں مگر ہمارا مسلک دینی ہونا چاہیئے نہ کہ دنیاوی اور آپ کی محبت اور ہمدردی ہی مجھے اس فرض کی طرف توجہ دلا رہی ہے کہ میں اس موقع پر آپ کو بتا دوں اور جتا دوں کہ جدھر خدائی تقدیر کی انگلی اٹھ رہی ہے آپ کا فرض ہے کہ ادھر توجہ دیں اور اپنے مرحوم باپ اور دادا اور نانا کے مسلک کو ہاں اس مسلک کو جس کے صحیح ہونے پر خدائی مہر ثبت ہو چکی ہے، اپنا مسلک بنا کر خدائی انعاموں کے وارث ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اور آپ کا حافظ و ناصر رہے۔اور آپ کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور انجام بخیر کرے۔آمین اور اے خدا تو ایسا فضل فرما کہ میں بھی تیرا ایک بہت گناہگار اور ناکارہ بندہ ہوں۔تیری وسیع رحمت سے اپنے عمل کے مطابق نہیں بلکہ اپنے اس جذبہ کے مطابق جو تو نے میرے دل میں ودیعت کیا ہے ، حصہ پاؤں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیونکہ میں اپنے نفس کے متعلق بھی وہ علم نہیں رکھتا جو تو رکھتا ہے۔آمین یا ارحم الراحمین