مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 312 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 312

مضامین بشیر ۳۱۲ نفاق اور اس کی اقسام اور علامات نفاق اور منافق کی تشریح کی ضرورت نفاق اور منافق ایسے الفاظ ہیں کہ جو قریباً ہر مذہبی شخص کی زبان پر کثرت کے ساتھ آتے رہتے ہیں اور مذہبی مضامین میں کم و بیش ہر قلم ان کے استعمال کا خوگر ہے مگر باوجود اس کثرتِ استعمال کے ان الفاظ کی حقیقت کو بہت کم لوگ سمجھتے ہیں اور اکثر لوگ صرف اس حد تک نفاق کی حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کا ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ہر چند کہ یہ تعریف غلط نہیں ہے اور نفاق کے عام مفہوم کے لحاظ سے بالکل صحیح تعریف ہے مگر ان الفاظ سے نفاق کے مفہوم کی وسعت اور اس کی اقسام اور علامات کا پتہ نہیں چلتا اور جب تک کسی ضرررسان چیز کی وسعت اور اس کی اقسام اور علامات کا پتہ نہ ہو انسان نہ تو خو داس کے نقصان سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کی حالت کو پورے طور پر سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ نفاق جیسے عام دینی مرض کو کسی قدر تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے تا کہ اس کے متعلق کسی قسم کی غلط فہمی نہ رہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے نفاق اور منافقوں کے متعلق بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے مگر چونکہ قرآنی آیات کے متعلق غور کرنے کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہے۔اس لئے بہت سے لوگ نفاق کی حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔لہذا میں اپنے اس مختصر مضمون میں نفاق کی حقیقت اور اس کی اقسام اور علامات کے متعلق کچھ بیان کروں گا۔ومــا تـوفـیـقــى الا بالله العلى العظيم۔نفاق کے لغوی معنی سب سے پہلے ہمیں اس لفظ کے لغوی معنی کے متعلق غور کرنا چاہیئے کیونکہ اصطلاحی معنی کی اصل بنیا دلغوی معنی پر ہوا کرتی ہے اور گو اصطلاح میں جا کر کچھ اختلاف پیدا ہو جاتا ہے مگر بہر حال لغوی معنی سے اصطلاحی معنی کا جوڑ ضرور قائم رہتا ہے۔سو جانا چاہیئے کہ نفاق ایک عربی لفظ ہے جس کی روٹ میں بہت سے معانی مخفی ہیں مگر ان میں سے زیادہ معروف یہ چار ہیں : (۱) کسی چیز کا اپنے اندر کم ہوتے یا گھٹتے۔یا خرچ ہوتے۔یا فنا ہوتے جانا۔