مضامین بشیر (جلد 1) — Page 313
۳۱۳ مضامین بشیر (۲) کسی تجارتی سامان یا مال کا منڈی میں بہت مقبول ہونا حتی کہ چاروں طرف اس کے گاہک نظر آئیں۔(۳) ایسا سوراخ جس کے دو مونہہ ہوں، جس میں کوئی چیز یا جانور ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل سکے۔(۴) کسی جانور کی ایسی بل جس کو مخفی رکھنے کے لئے اس نے اس کے پاس ہی ایک دوسری بل بھی بنا رکھی ہو مگر یہ دوسری بل محض نمائشی اور جھوٹی ہو اور صرف دھوکا دینے کی غرض سے بنائی گئی ہو جو تھوڑی دور جا کر بند ہو جاتی ہو اور وہ جانوران بلوں میں سے جھوٹی اور نمائشی بل کو تو ظاہر کر دے اور اصلی بل کے مونہہ کو چھپا کر رکھے۔یہ وہ چار معروف معنی ہیں جو لغوی طور پر لفظ نفاق کی روٹ میں پائے جاتے ہیں اور ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ نفاق کے اصطلاحی معنی ان چار لغوی معنوں میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک خاص طبعی جوڑ رکھتے ہیں۔مؤخر الذکر دولغوی معنوں کے ساتھ تو نفاق کی اصطلاح کا جوڑ ظاہری ہے کیونکہ ان میں صریح طور پر دو غلے پن کا مفہوم پایا جاتا ہے۔جس کے لئے کسی تشریح کی ضرورت نہیں اور اوّل الذکر لغوی معنی کے ساتھ اصطلاحی نفاق کا جوڑیوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دینی اور روحانی بیماریوں میں سے نفاق ہی ایک ایسی بیماری ہے جس کا مریض خواہ وہ اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے ہر وقت اپنے اندر گھلتا اور گھٹتا رہتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے۔سل کے مریض کی طرح اس کے اندرونی اعضا کو یہ بیماری کھاتی چلی جاتی ہے مگر وہ محسوس نہیں کرتا اور ثانی الذکر معنی کے ساتھ اس کا یہ جوڑ ہے کہ مقبول مال کی طرح ایک منافق بھی بزعم خود اپنے آپ کو سب کے لئے مقبول بنانا چاہتا ہے تا کہ مومن و کا فرسب اس کے خریدار رہیں۔نفاق کے اصطلاحی معنی اب رہا نفاق کے اصطلاحی معنی کا سوال۔سو ایک تو اس کے وہی معروف معنی ہیں جنہیں ہر شخص جانتا ہے۔یعنی ظاہر کچھ کرنا اور دل میں کچھ اور رکھنا یا بالفاظ دیگر ظاہر میں تو ایمان کا اظہار کرنا مگر دل میں کا فر ہونا۔یہ وہ معنی ہیں جن سے کم و بیش ہر شخص واقف ہے مگر یہ یا درکھنا چاہیئے کہ نفاق کے صرف یہی معنی نہیں ہیں بلکہ اس کے معنوں میں زیادہ وسعت اور زیادہ تنوع ہے اور اس وسعت اور تنوع کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی اکثر لوگ اپنے مرض کو سمجھنے یا دوسروں کے متعلق صحیح رائے لگانے میں غلطی کھاتے ہیں۔قرآن شریف اور حدیث کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ نفاق کا مرض مندرجہ ذیل