مضامین بشیر (جلد 1) — Page 245
۲۴۵ مضامین بشیر ہوئی اور میں نے دل میں کہا کہ یہ وہ صاحب ہیں جن کا میرے ساتھ میاں فخر الدین کی نسبت بھی زیادہ وسیع اور زیادہ گہراتعلق رہا ہے۔یعنی ان کی اہلیہ صاحبہ میری رضاعی بہن ہیں اور ایک مخلص اور پرانے اور مرحوم صحابی کی لڑکی ہیں۔وہ خود برسوں ایک صیغہ میں میرے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور پھر ان کے ساتھ میرے ذاتی دوستانہ تعلقات بھی رہے ہیں۔میں نے ان باتوں کا خیال کیا اور میرا دل سخت در دمند ہو گیا اور میں نے ان کے لئے دعا کی کہ خدا یا ان کی آنکھوں کو کھول اور انہیں پنے فضل سے بچے رستہ کی طرف ہدایت دے اور انہیں بد انجام سے بچا اور اگر تیرے علم میں یہ مقدر نہیں ہے تو کم از کم انہیں اس خطرناک رستہ سے ہٹالے جو تیرے غضب کو زیادہ بھڑ کانے والا ہے اور انہیں کسی گمنامی کے گوشے میں لے جا کر ڈال دے۔جہاں وہ کسی دوسرے ماحول میں پڑ کر اس آگ کے کھیل کو بھول جائیں جس میں وہ اب مصروف ہیں۔انتہائی اشتعال سے مغلوب ہو جانے والانو جوان بالآخر مجھے اس نوجوان کا بھی خیال آیا جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے زخمی ہو کر میاں فخر الدین کی موت واقع ہوئی ہے۔میں نے خیال کیا کہ یہ نوجوان اپنی جوانی کے عالم میں اس انتہائی اشتعال سے مغلوب ہو کر جو میاں فخر الدین کے الفاظ نے دلایا، میاں فخر الدین پر حملہ کر بیٹھا ہے اور اس حملہ میں اس نے جماعت کی اس تعلیم کو یا دنہیں رکھا کہ ہمیں ہر اشتعال کی حالت میں خواہ وہ کیسا ہی سخت ہو، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا چاہیئے اور صبر اور برداشت کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہیئے۔میں نے دعا کی کہ خدایا یہ نوجوان جو ایک سخت غلطی کا مرتکب ہو چکا ہے۔تو اسے تو فیق عطا کر کہ وہ کچی اور دلی ندامت کے ساتھ تیرے آستانہ پر گر جائے اور قبل اس کے کہ تو بہ کا دروزاہ بند ہو وہ تیری معافی کو پالے اور اے خدا تو آئندہ جماعت کے افراد کو یہ توفیق عطا کر کہ وہ اپنے جوشوں کو نا واجب طور پر ظاہر کرنے کی بجائے اپنے نفسوں کو روک کر رکھیں اور اپنے جوشوں کو قابو میں رکھتے ہوئے انہیں ان رستوں پر ڈالیں جو تیرے دین کے لئے رحمت اور برکت اور نیک نامی کا باعث ہوں۔آمین اللهم آمین وَاخِرُ دَعُونَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْن وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العلى العظيم۔( مطبوعه الفضل ۲۵ اگست ۱۹۳۷ء)