مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 244 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 244

مضامین بشیر ۲۴۴ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اکثر انبیاء اور صلحاء پر اور ان کے اہل وعیال پر کمینہ لوگوں کی طرف سے ایسے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قول و فعل سے ان کی تردید کرتا رہا ہے۔اچھی زندگی وہی جس کا انجام اچھا ہو میں اپنے خیالات کی رو میں اصل مضمون سے ہٹ کر دوسری طرف نکل گیا۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ میاں فخر الدین صاحب ملتانی کی وفات پر میرے دل میں کیا کیا خیالات اٹھے۔میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ ان کی وفات کی خبر سن کر میری آنکھوں کے سامنے ان کی قادیان کی اکتیس سالہ زندگی کا نقشہ پھر گیا اور میں نے ان کے آغاز کے مقابل پر ان کے انجام کو رکھ کر دیکھا اور میرا دل خوف سے بھر گیا اور میں نے دل میں کہا کہ اچھی زندگی وہی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔میرے دل میں یہ خیال آیا فخر الدین آج سے ڈھائی ماہ قبل فوت ہو جاتے تو گو اس وقت بھی ان کے دل میں مرض پیدا ہو چکا تھا مگر بہر حال ابھی تک وہ خدا کے پردہ ستاری کے نیچے تھے اور یقیناً اس وقت انہیں یہ نعمت تو حاصل ہو جاتی کہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک جماعت ان کے جنازہ میں شریک ہوتی اور ان کے لئے خدا سے مغفرت کی طالب ہوتی اور چونکہ وہ موصی تھے اغلب یہ ہے کہ خدا ان کی لغزش کو معاف فرما دیتا اور مقبرہ بہشتی میں جگہ پالیتے مگر اس ڈھائی ماہ کے قلیل عرصہ نے کیا کیا تغیر پیدا کر دیا اور انہیں کہاں سے اٹھا کر کہاں دے مارا ! یقیناً یہ خدائے غیور کی تقدیر ہے جسے کوئی شخص بدل نہیں سکتا۔ہمارے دل ان کی موت پر خوش نہیں بلکہ میں اپنے او پر دوسروں کو قیاس کر کے کہتا ہوں کہ ہم سب کو ان کی موت کا رنج ہے اور دلی رنج ہے اور ہمارے دل اس خیال سے محزوں ہیں کہ ہمارا ایک ساتھی جو برسوں ہمارے اندر رہا کس طرح اپنی عمر کے آخری لمحات میں ہم سے جدا ہو کر ایک ایسے رستہ پر پڑ گیا جواب ہمارے رستہ سے کہیں اور کبھی نہیں مل سکتا بلکہ اس رستہ کا ہر قدم اس روحانی جدائی کو وسیع کرتا جاتا ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔یہ ایک نہایت درد ناک منظر ہے مگر ہر الہی سلسلہ کو یہ مناظر دیکھنے پڑتے ہیں جن کے بغیر کوئی قوم مستحکم نہیں ہو سکتی۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اسی تخیل میں میری نظر میاں فخر الدین سے ہٹ کر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی طرف منتقل