مضامین بشیر (جلد 1) — Page 197
۱۹۷ تھی۔کارخانوں کی تباہی نے بے چارے کا شتکاروں کے لئے نہایت شدید پیچیدگی مضامین بشیر پیدا کر دی ہے۔۶۴ ہر ایکسلینسی گورنر صاحب بہادر بہار نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :- اس زلزلہ کی تباہ کاری گزشتہ تاریخ کے مقابلہ میں بلحاظ عظمت سب سے زیادہ وسیع اور بھاری ہے۔اگر دریائے گنگا کے جنوبی حصوں کو جن میں نسبتاً جان ومال کا کم نقصان ہوا ہے۔چھوڑ بھی دیا جائے۔تب بھی جس قدر علاقہ زلزلہ سے تباہ ہوا ہے وہ کسی طرح ملک سکاٹ لینڈ کے رقبہ سے کم نہیں ہے اور آبادی کے لحاظ سے اس سے پانچ گناہ زیادہ ہے۔“ شمالی بہار کے شہروں میں اغلباً ایک خشتی مکان بھی نہیں ہے۔جو کامل طور پر نقصان سے بچ گیا ہو۔مونگھیر کا گنجان بازار اس حد تک برباد ہو چکا ہے کہ کئی دن تک رستہ کا پتہ باوجود کوشش کے نہیں لگ سکا۔ہزار ہا جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور اگر یہ جھٹکا دن کی بجائے رات کو لگتا۔تو اس سے ہزار درجہ زیادہ نقصان جان ہوتا۔شہری آبادی جس پر یہ مصیبت آئی ہے ۵ لاکھ نفوس سے کسی طرح بھی کم نہیں۔66 ۱۲ شہر جن کی آبادی ۱۰ ہزار سے ۶۰ ہزار تک تھی کامل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔“ فوجی سپاہی جنہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعہ سے رقبہ متاثرہ کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ کیا ہے وہ اس کو ایک میدان جنگ سے تشبیہ دیتے ہیں۔جس کو دشمن کی فوج نے بمباری سے تباہ کر دیا ہو۔ایک بہت بڑے علاقے کے زمینداروں کی قابل کاشت زمینیں شگافوں، غاروں اور پانی کے ابلتے ہوئے چشموں سے تباہ ہوگئی ہیں۔اور پانی کے ساتھ نکلی ہوئی ریت نے تین فٹ تک بلکہ اس سے زیادہ زمین کو ڈھانک دیا ہے۔اس نقصان کی پوری وسعت کا اندازہ جو ہندوستان کے ایک نہایت زرخیز علاقہ کو پہنچا ہے۔ایک مدت مدید تک کرنا مشکل ہے۔جس علاقہ کا ڈائریکٹر آف ایگریکلچر اور ڈائریکٹر آف انڈسٹریز نے معائنہ کیا ہے۔ان کا اندازہ ہے کہ مظفر پور اور دربھنگہ کے نزدیک ۲ ہزار مربع میل کے رقبہ پر نصف زمین بالکل ریگستان بن گئی ہے۔“ اس کے علاوہ ہوائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نقصان شمالی بھا گلپور اور ضلع پور ینہ کے کھیتوں میں بھی پایا جاتا ہے۔“