مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 198

مضامین بشیر ۱۹۸ تمام شمالی بہار میں آمد و رفت کے ذرائع مسدود ہیں اور سڑکیں اور ریلیں 66 برباد ہو چکی ہیں۔“ اس کے علاوہ اور ایک خطرہ جس کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ ہے کہ زلزلہ نے تمام ملک کی سطح میں بلحاظ نشیب وفراز بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔زمین کے دھننے اور ابھرنے کی کشاکش سے اونچی اونچی سڑکیں معمولی سطح زمین کے برابر ہوگئی ہیں۔آب رسانی کے سابقہ ذرائع بالکل معطل ہو گئے ہیں۔دریاؤں کی گزر گا ہیں تبدیل ہوگئی ہیں۔اس قدر تباہی اور زمین کے تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے سخت اندیشہ ہے کہ آئندہ برسات اس علاقہ میں سخت طوفان کا باعث ہوگی۔۶۵ لارڈ ریڈنگ سابق وائسرائے ہند نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے چشم پر آب ہو کر کہا کہ : - یہ زلزلہ ایسا ہیبت ناک ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور یہ قریباً قریباً ناممکن ہے کہ اس تباہی کا نقشہ انگلستان کے باشندے اپنے تصور میں لاسکیں۔کیا یہ تباہی جو اوپر کے حوالہ جات میں بیان ہوئی ہے۔قیامت کے نمونہ سے کم ہے۔کیا یہ تباہی اس ہولناک نقشہ کے عین مطابق نہیں۔جو آج سے ۲۸ سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ؟ کیا یہ تباہی خدائے ذوالجلال کی قدرت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ؟ اور پھر کیا یہ تبا ہی خدا کے وعدے کے مطابق اس کے زور آور حملوں میں سے ایک زور آور حملہ نہیں؟ فاعتبروياولی الابصار ,, اس زلزلہ نے نادر شاہ بادشاہ افغانستان کے قتل کے بعد آنا تھا دوسری علامت اس زلزلہ کے لئے یہ مقرر کی گئی تھی کہ وہ نادر شاہ بادشاہ افغانستان کی وفات کے بعد اس کے زمانہ سے ملتا ہوا آئے گا۔یہ علامت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے اس طرح مستنبط ہوتی ہے کہ ۳ مئی ۱۹۰۵ء کی صبح کو آپ کو غیبی تحریر دکھائی گئی جس پر یہ الفاظ لکھے تھے :- آہ نادر شاہ کہاں گیا۔۱۷ ی خبر نادر شاہ بادشاہ افغانستان کے واقعہ قتل کے متعلق تھی۔جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ