مضامین بشیر (جلد 1) — Page 196
مضامین بشیر ۱۹۶ اخبار پر کاش لا ہو رلکھتا ہے کہ : - ”ہندوستان کی تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی کوئی اتنا بڑا زلزلہ آیا ہو۔زلزلہ کیا ہے پر ماتما کا ایک کوپ ہے۔اخبار سرفرا زلکھنو لکھتا ہے کہ :۔- ہندوستان کے باشندے گویا زلزلے کو بھولے ہوئے تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اب کچھ زمانہ سے ہندوستان میں بھی پے در پے زلزلے آ رہے ہیں۔۱۲ " اخباراہلحدیث لکھتا ہے کہ : - یقین ہے کہ بعد ختم رسالت محمدیہ علی صاحب بالتحیة والسلام اگر نبوت جاری رہتی تو جدید نبی پر جو کتاب آتی اس میں عاد ثمود اور فرعونیوں کی تباہی کے ذکر کے ساتھ ہی صوبہ بہار کے زلزلہ زدہ مقامات کا ذکر بھی ضرور ہوتا۔یعنی بتایا جاتا کہ ,, عادیوں نمودیوں کے عذاب سے زیادہ عذاب ان مقامات پر آیا۔۱۳ گورنمنٹ ہند کے ہوم ممبر سر ہیری ہیگ نے اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ : - سرکاری عمارتوں مثلاً عدالتوں، دفتروں اور رہائشی مکانات کی مرمت یا از سرنو تعمیر کے مجموعی اخراجات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا لیکن گورنر بہار نے کہا ہے کہ صرف ایک شہر میں ۳۰ لاکھ کی سرکاری عمارات مسمار ہوچکی ہیں۔ریل کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔صرف جمال پور کے نقصان کی مرمت کا انداز ۵۰۰ لاکھ روپے سے کم نہیں ہے۔“ مقامی اداروں مثلاً ڈسٹرکٹ بورڈوں اور میونسپل کمیٹیوں کو بھی ہسپتالوں، دوا خانوں، سکولوں، سڑکوں اور پلوں کی تباہی سے بہت نقصان پہنچا ہے۔,, 66 پرائیویٹ ملکیتیوں کے نقصان کا مجموعی اندازہ پیش کرنا قطعاً ناممکن ہے۔“ "زراعتی زمینوں کے نقصانات کا اندازہ بھی ویسا ہی ناممکن ہے۔بعض مقامات پر سُرخ کیچڑ اور ریت زمین سے نکل آئی ہے اور یہ کہ وہ مستقبل میں زمین کی زراعتی قابلیتوں کو کس حد تک نقصان پہنچائے گی۔اس کا اندازہ سر دست نہیں کیا جا سکتا۔کاشتکاروں پر اس وقت سب سے زیادہ مصیبت کا رخانجات شکر سازی کی وجہ سے بھی آئی ہے۔جیسا کہ ہزا سیکسی لنسی گورنر نے اشارہ کیا تھا۔تین اضلاع متاثرہ میں دولاکھ ایکڑ زمین پر نیشکر بویا جاتا تھا۔جس سے ۲۲ لاکھ من شکر برآمد ہوتی