مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 141 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 141

۱۴۱ مضامین بشیر حضرت عائشہ پر بہتان کا واقعہ جب بعض شریر فتنہ پرداز منافقوں نے حضرت عائشہ پر بہتان باندھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا سخت صدمہ ہوا اور آپ کی زندگی بے چین ہو گئی۔اس بے چینی کے عالم میں آپ نے ایک دن حضرت عائشہ سے فرمایا: عائشہ اگر تمہارا دامن پاک ہے تو خدا عنقریب تمہاری بریت ظاہر فرما دے گا مگر دیکھو انسان بعض اوقات ٹھو کر بھی کھاتا ہے لیکن اگر اس ٹھوکر کے بعد وہ سنبھل جاۓ اور خدا کی طرف جھکے تو خدا ارحم الراحمین ہے۔وہ اپنے بندے کو ضائع نہیں کرتا تم سے اگر کوئی لغزش ہوگئی ہے تو تمہیں چاہیئے کہ خدا کی طرف جھکو اور اس کے رحم کی طالب بنو۔“ حضرت عائشہ کا دل پہلے سے بھرا ہوا تھا۔اس خیال نے ان کے جذبات کو مزید ٹھیس لگائی کہ میرا رفیق زندگی اور میرا سرتاج بھی میرے متعلق اس قسم کی لغزش کا امکان تسلیم کرتا ہے۔چنانچہ وہ تھوڑی دیر تو بالکل خاموش رہیں اور پھر یہ الفاظ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئیں کہ : فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ إِنَّمَا اَشْكُوا بِشَى وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ یعنی میرے لئے صبر ہی بہتر ہے۔اور میں اس بات کے متعلق جو کہی جا رہی ہے خدا کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگتی اور نہ میں اپنے دکھ کی کہانی خدا کے سوا کسی سے کہتی ہوں۔“ یہ حضرت عائشہ کی غلطی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ ان پر کوئی بدظنی نہیں کی تھی بلکہ محض ایک اصولی نصیحت فرمائی تھی مگر آپ کے الفاظ نے حضرت عائشہ کے حساس دل کو چوٹ لگائی اور وہ اس غم میں اندر ہی اندر گھلنے لگ گئیں۔لیکن اس پر کوئی زیادہ وقت نہ گزرا کہ حضرت عائشہ کی بریت میں وحی الہی نازل ہوئی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش خوش ان کے قریب گئے اور انہیں مبارک باد دی حضرت عائشہ نے رقت بھری آواز میں جس میں کسی قدر رنج کی آمیزش بھی تھی جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں کسی کی شکر گزار نہیں ہوں بلکہ صرف اپنے خدا کی شکر گزار ہوں جس نے خود میری بریت فرمائی۔سرور کائنات کے سامنے اس رنگ میں یہ الفاظ کہنا بھی ایک غلطی تھی مگر دیکھو تو غلطیاں کیسی پیاری غلطیاں ہیں جیسے ایمان واخلاص کی لپیٹیں اُٹھ اُٹھ کر دماغ کو معطر کر رہی ہیں اور یہ سب باغ و بہار آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھا۔