مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 142 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 142

مضامین بشیر امہات المومنین کو نصیحت ۱۴۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں عموماً یہ نصیحت فرماتے تھے کہ تمہاری حیثیت عام مومنات کی سی نہیں ہے بلکہ میرے تعلق کی وجہ سے تمہیں ایک بہت بڑی خصوصیت حاصل ہوگئی ہے اور تمہیں اس کے مطابق اپنے آپ کو بنانا چاہیئے بلکہ آپ نے فرمایا کہ تم مومنوں کی روحانی مائیں ہو۔جیسا کہ میں روحانی باپ ہوں۔پس تمہیں ہر رنگ میں دوسروں کے واسطے ایک نمونہ بننا چاہئے۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم کوئی غلط طریق اختیار کرو گی تو خدا کی طرف سے تمہیں دوہری سزا ہوگی کیونکہ تمہارے خراب نمونہ سے دوسروں پر بھی برا اثر پڑے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جب کثرت کے ساتھ اموال آئے تو دوسرے صحابیوں کی طرح آپ کی ازدواج نے بھی اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق حصہ مانگا۔آپ نے فرمایا۔اگر تمہیں دنیا کے اموال کی تمنا ہے تو میں تمہیں مال دئے دیتا ہوں لیکن اس صورت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں ( کیونکہ میں اپنی زندگی کو دنیا کے مال و متاع کی آلایش سے ملوث نہیں کرنا چاہتا ) اور اگر تم میری بیویاں رہنا چاہتی ہو تو دنیا کے اموال کا خیال دل سے نکال دوسب نے یک زبان ہو کر عرض کیا کہ ہمیں خدا کے رسول کا تعلق بس ہے مال نہیں چاہیئے اور جب انہوں نے خدا کی خاطر دنیا کے اموال کو ٹھکرا دیا تو خدا نے اپنے وقت پر ان کو دنیا کے اموال بھی دے دیئے۔محبت و دلداری مگر اس تعلیم و تادیب کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت و دلداری کے طریق کو بھی کبھی نہیں چھوڑ احتی الوسع آپ ہر بات میں اپنی بیویوں کے احساسات اور ان کی خوشی کا خیال رکھتے تھے۔ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت بے تکلفی اور تلطف سے بات کرتے۔اور با وجودا اپنی بہت سی مصروفیتوں کے اپنے وقت کا کچھ حصہ لازماً ان کے پاس گزارتے حتی کہ سفروں میں بھی باری باری اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رکھتے اور آپ کی عادت تھی کہ اپنی بیویوں کی عمر اور حالات کے مناسب ان سلوک فرماتے تھے۔حضرت عائشہ جب بیا ہی ہوئی آئیں تو ان کی عمر بہت چھوٹی تھی انہیں دنوں میں چند حبشی لوگ تلوار کا کرتب دکھانے کے لئے مدینہ میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی مسجد میں کرتب دکھانے کی اجازت دی۔اور آپ نے خود حضرت عائشہ کو اپنی اوٹ میں لے کر اپنے حجرہ کی دیوار کے پاس کھڑے ہو گئے اور جب تک حضرت عائشہ اس تماشے سے ( جو درحقیقت ایک