مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 140 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 140

مضامین بشیر ۱۴۰ خود اپنی خوشی سے چھوڑتی ہیں۔اس عدل وانصاف کے توازن کو قائم رکھنے کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ کی موجودگی میں آپ کی بعض بیویوں کا کسی بات پر آپس میں کچھ اختلاف ہو گیا۔حضرت عائشہ ایک طرف تھیں اور بعض دوسری بیویاں دوسری طرف۔دوسری بیویوں نے غصہ میں آکر حضرت عائشہ کے ساتھ کسی قد رسخت باتیں کیں۔مگر حضرت عائشہ نے صبر سے کام لیا اور خاموش رہیں۔ان کی خاموشی سے دلیر ہو کر ان بیگمات نے ذرا زیادہ بختی سے کام لینا شروع کیا جس پر حضرت عائشہ کو بھی غصہ آگیا اور انھوں نے سامنے سے جواب دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود تھے اور آپ خوب جانتے تھے کہ اس معاملہ میں حضرت عائشہ حق پر ہیں اور حضرت عائشہ سے آپ کو دوسری بیویوں کی نسبت محبت بھی زیادہ تھی مگر چونکہ اس اختلاف کا کوئی عملی اثر نہیں تھا آپ بالکل خاموش رہے تا کہ دوسری بیویوں کے دل میں یہ احساس نہ پیدا ہو کہ آپ عائشہ کی پاسداری فرماتے ہیں۔البتہ جب یہ نظارہ بدل گیا تو آپ نے حضرت عائشہ سے از راہ نصیحت فرمایا چونکہ تم حق بجانب تھیں جب تک تم خاموش رہیں تمہاری طرف سے خدا کے فرشتے جواب دیتے رہے لیکن جب تم نے خود جواب دینے شروع کئے تو فرشتے چھوڑ کر علیحدہ ہو گئے۔تعلیم و تادیب کا خیال تعلیم و تادیب کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے گھر میں ایک بہترین مصلح اور معلم کی حیثیت رکھتے تھے۔اور کوئی موقع اصلاح اور تعلیم کا ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔قرآن شریف کی ایک مشہور آیت ہے : قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًاث یعنی اے مسلمانو اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی ہر قسم کی معصیت اور گناہ سے اور دوسرے ضررساں رستوں سے بچاؤ۔“ آپ اس آیت پر نہایت پابندی کے ساتھ مگر نہایت خوبی سے عمل پیرا تھے اور یہ آپ کی تعلیم وتربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کی ازواج مطہرات اسلامی اخلاق و عادت اور اسلامی شعار کا بہت اعلیٰ نمونہ تھیں۔بشریت کے ماتحت ان سے بعض اوقات غلطی بھی ہو جاتی تھی لیکن ان کی غلطیوں میں بھی اسلام کی بو آتی تھی۔