میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 151 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 151

139 اور کنارہ پر چھوڑ آئے۔پھر سامان والے گھوڑے کو بھی پار کر آئے۔بعد میں نے بھی اسے عبور کیا۔شام کے وقت ہم کو ٹلی میں منشی میر عالم صاحب احمدی کے مکان پر پہنچے۔کوٹلی میں دو دن قیام کرنے کے بعد پھر دو گھوڑے پونچھ جانے کے لئے کرایہ پر لئے اور روانہ ہو گئے۔آسمان ابر آلود تھا۔بڑی مشکل سے شام کے وقت بارش میں دھناہ" پہنچے۔نور محمد صاحب احمدی کے مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں اور ان کی بیوی کہنے لگی کہ گھر میں رہنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔پھر فتح محمد خاں صاحب احمدی کے مکان پر پہنچے تو گھر میں ایک ہی جگہ پر چوپائے اور گھر والے رہ رہے تھے ہم بھی ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔مکرم امیر عالم صاحب کے چھوٹے بھائی ہمارے ہمراہ تھے۔انہوں نے وہاں کھانے کا انتظام کیا اور رات گزاری۔اگلے دن پھر بارش میں ہی چل پڑے۔فتح محمد صاحب نے بہت روکا کہ بارش زیادہ ہے آپ نہ جائیں۔میں نے کہا کہ جس کی بارش ہے اس کے ہم ہیں۔ہمیں اب اجازت ہی دیں۔ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ بارش تھم گئی اور دھوپ نکل آئی۔ہم مینڈری دریا پر پہنچے تو خدا تعالٰی نے چند آدمی ہماری مدد کے لئے دے دیئے جن کی مدد سے ہم نے دریا پار کیا۔جب ہم مدار پور کے پل سے تیتری فورٹ کے راستے پونچھ کے قریب پہنچے تو بتاڑ نالہ جو پونچھ شہر سے بالکل قریب ہے میں کافی پانی تھا جس کی وجہ سے مسافر رکے ہوئے تھے اور ہمارے جانے سے پہلے چار خچر اور ایک آدمی پانی کی رو میں بہہ چکے تھے۔اس لئے ڈر کے مارے کوئی مسافر بھی آگے نہ بڑھتا تھا۔قریب ہی ایک گاؤں تھا جس میں رات گزارنے کے یارے میں ہم سب ابھی مشورہ ہی کر رہے تھے کہ شہر کی طرف سے ہاتھی آیا جس کے مہاوت نے بلند آواز دی کہ مولوی صاحب کہاں ہیں۔میں انہیں لینے آیا ہوں۔ہم نے سلمان اور گھوڑے وہیں روک دیئے اور میں خود میری اہلیہ اور دین