میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 78
66 بغیر دیو بندیوں سے مناظرہ مقرر کر لیا۔مقررہ تاریخ پر کافی مولوی صاحبان لوہاری پہنچ گئے اور ہماری طرف سے مولوی جلال الدین صاحب شمس، مولوی غلام احمد صاحب - بدو ملی، سیٹھ خیرالدین صاحب آف لکھنو، قاضی عبدالرحیم صاحب اور صاحب آف فرخ آباد۔غرضیکہ کافی احباب پہنچ گئے۔مجھے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے بھیجا گیا۔میری واپسی پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔حیات و ممات مسیح پر دیو بندیوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ ان قادیانیوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے اور کسی طریق سے ان کا علاج نہیں ہو سکتا۔میرے گاؤں کے لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر علم کی بحث کرتا ہے تو مولویوں سے کرو اور اگر کسی سرے نے ڈنڈا چلاتا ہے تو ہم پر چلائے۔غرضیکہ مناظرہ اسی شور میں بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔فریقین اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔جب اس بات کی اطلاع حضور کو قادیان پہنچی کہ دیو بندیوں نے ہمیں ڈنڈے سے ڈرایا ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کے گاؤں والوں نے انہیں ایسا جواب دیا ہے تو حضور بہت خوش ہوئے کہ یہ ہمارے مبلغ کے تعلقات کا نتیجہ ہے اور مبلغین کو ہر جگہ ایسا ہی نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔غرضیکہ حضور نے یہ خوشنودی کا اظہار فرمایا میرے وہاں دورے کا تین ماہ کا عرصہ پورا ہو چکا تھا اور منشی عبد الخالق صاحب رخصت پر قادیان جا رہے تھے تو بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی مجھ سے کہنے لگے کہ آپ خدا کے لئے دس دن اور وقف کر دیں ورنہ یہ حلقہ خالی رہ جائے گا اور دشمن اپنا پرو پیگنڈا کر کے لوگوں کو ہمارے خلاف کر دے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان مراکز سے ہمیں جواب مل جائے۔میں نے ان کے کہنے پر دس دن اور وقف کر دیئے اور مزید دس دن وہاں گزارے۔اسی اثناء میں منشی عبد الخالق صاحب قادیان سے میرے پاس نگلہ گھنو پہنچے اور کہا آپ واپس جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔حضور کی طرف سے آپ کو کوئی خاص حکم آئے