میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 251 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 251

239 تھے۔میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک میدان میں کھڑا ہوں اور ایک بہت بڑا گھوڑا جو بہت خوبصورت اور سرخ رنگ کا تھا۔اس پر ایک سوار چلا آرہا تھا۔اس گھوڑے کے پیچھے پیچھے حضرت مسیح موعود اور انکے پیچھے حضرت المصلح الموعود پیدل چلے آرہے ہیں۔وہ گھوڑا میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔اس گھوڑے پر حضرت نبی كريم سوار ہیں۔اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت گھوڑا میرے خیال میں اس دنیا میں نہیں پایا جانکہ نبی کریم ﷺ کے سر پر سونے اور چاندی کا تاج ہے اور بہت خوبصورت لباس ہے۔گھوڑا اس قدر طاقتور تھا کہ حضور نے دونوں ہاتھوں۔باگیں بڑی مضبوطی سے پکڑ کے گھوڑے کو قابو کر رکھا تھا۔میرے دل میں وہ نظارہ دیکھ کر ایک ایسا جوش پیدا ہوا کہ میں نے کہا اے مولا کریم اس تاج پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہو گی تو یہ گرم ہو جاتا ہو گا۔اگر آپ مجھے پر لگا دیں تو میں اڑ کر سورج اور چاند کے درمیان آجاؤں اور اپنے پروں سے نبی کریم کو ہوا بھی پہنچاؤں اور سایہ بھی کروں۔میرے کہنے کی دیر تھی کہ میرے بازوؤں کے بڑے بڑے پر بن گئے اور میں نے پاؤں سے ذرا سا اشارہ ہی کیا تو اڑ کر فضا میں عین اسی جگہ پہنچ گیا جہاں کی مجھے خواہش تھی۔میرے پروں سے حضور ﷺ پر سایہ ہو رہا تھا۔جب حضور کو سائے کی ٹھنڈک اور پروں کی ہوا پہنچی تو انہوں نے سر اٹھا کر میری جانب دیکھا۔میں بھی آپ ﷺ کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔آپ کا چہرہ نہایت ہی خوبصورت تھا اور آپ ﷺ میری طرف دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے گویا خوشنودی کا اظہار فرما رہے ہیں۔اس وقت میں بھی تہیہ کیے ہوئے ہوں کہ جدھر جدھر بھی یہ گھوڑا جائے گا میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ان کے اوپر اوپر اڑتا چلا جاؤں گا اور اپنا سایہ ان پر کئے رکھوں گابور پروں سے سلیہ کے علاوہ ٹھنڈی ہوا بھی پہنچاؤں گا۔یہ خدمت کر کے میرا دل اتنا خوش ہوا کہ ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔میں