میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 233 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 233

221 ہٹی، سرائے نوشہرہ، باقی چھوٹے چھوٹے دیہات کے نام یاد نہیں ہیں ورنہ بیسیوں ہیں جن کے دوروں کے دوران تبلیغ کی جاتی رہی۔ابھی میں بھدرواہ میں ہی تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ ضلع گجرات کا تبلیغی دورہ وہی آریہ پنڈت ڈوڈہ جا کر تقریر کرے گا۔میں بھی وہاں سے روانہ ہو کر ڈوڈہ کے پل پر پہنچا تو پتہ چلا کہ پنڈت بٹوٹ میں لیکچر دے گا۔غرضیکہ اسی پنڈت جی کا میں نے جموں تک پیچھا کیا لیکن پنڈت جی نے لاہور جا کر ہی دم لیا اور پھر میں پونچھ چلا گیا اور جلسہ سالانہ تک وہاں کام کرتا رہا اور پھر جلسہ کے موقع پر قادیان واپس آگیا۔جلسہ کے بعد ۱۹۴۷ء میں کشتواڑ اور بھدرواہ گیا۔ماہ جون میں بھر رواہ سے براستہ ہوٹ و رام نگر بانہال اور اسلام آباد ، سری نگر پہنچا۔تین دن چھاؤنی سری نگر میں بوساطت جمال الدین صاحب احمدی ، افسران کو تبلیغ کرتا رہا اور براستہ اوڑی و علی آباد پونچھ پہنچا۔رمضان شریف کے اختتام تک وہاں قیام کیا۔پھر ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور میں پونچھ سے براستہ جموں قادیان پہنچ گیا۔دفتر سے میری اور گیانی واحد حسین صاحب کی ڈیوٹی لگی کہ ضلع گجرات میں جلسے کر کے تبلیغ کریں۔ہم نے وہاں تقریباً دو ماہ کا دورہ کیا جس کے دوران درج ذیل علاقوں میں تبلیغ کی گئی۔شیخ پور، نسودالی کڑیانوالہ بھوا، عا لمگڑھ ، فتح پور مجرات شہر کھاریاں، شادی وال جو لیگی ، منڈی بہاؤالدین وغیرہ۔جب میں دورہ سے واپس آرہا تھا اس وقت پر خطر حالات میں قادیان واپسی لاہور میں ماردھاڑ کا سلسلہ جاری تھا۔صبح والی ریل پر سوار ہو گیا۔نو بجے والی گاڑی دن کے بارہ بجے روانہ ہوئی اور ہمیں راستہ میں امرتسر اتار دیا گیا پٹھانکوٹ کی طرف دن کے وقت کوئی گاڑی نہ گئی اور معلوم ہوا کہ رات دس بجے ایک گاڑی پٹھانکوٹ کے لئے روانہ ہو گی۔مرزا بشیر