میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 162
150۔مناظرین میں خود اور معاون پیارا خدا تعالیٰ تھا۔میں نے صداقت حضرت مسیح موعود پر چند آیات قرآنی بیان کیں۔اس پر کھڑی صاحب بولے کہ قرآن پاک نے مرزا صاحب کی صداقت بیان کرنا قرآن پاک کی تنگ کرنا ہے۔تم مرزا صاحب کی صرف ایک پیشگوئی محمدی بیگم والی بچی ثابت کر دو تو ہم احمدی ہو جائیں گے اور کسی بات کے متعلق ہم نے بات نہیں کرنی۔ہم نے کہا حافظ صاحب نے یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ قرآن پاک مرزا صاحب کو سچا ثابت کرتا ہے اور جو آیات میں نے پڑھی ہیں۔ان کا حافظ صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔دوسرے مرزا صاحب کی باقی ہزاروں پیشگوئیاں تو پوری ہیں صرف محمدی بیگم والی پیشگوئی حافظ صاحب کی بیعت میں روک بنی ہوئی ہے۔اب میں اس روک کو بھی دور کرنے کی کوشش کرونگا۔امید ہے کہ حافظ صاحب خدا کا خوف رکھتے ہوئے اچھی طرح سنیں گے۔حافظ صاحب مانتے ہیں کہ احمد بیگ اس پیشگوئی سے مر گیا تھا اور سلطان محمد کی موت توبہ کر لینے سے ٹل گئی تھی۔اس کی موت کے ٹل جانے پر مرزا صاحب نے یہ لکھ دیا کہ پیشگوئی کا ایک حصہ تاخیر میں پڑ گیا یا منسوخ ہو گیا ہے۔حافظ صاحب غصے سے بولے کہ میں مناظرہ کو مختصر کرنے کے لئے صرف ایک پیش گوئی کو سامنے رکھا تھا ورنہ میں تو مرزائیوں کے چھکے چھڑا دیا کرتا ہوں اور اب بھی دیکھ لینا۔اجی مولوی صاحب کو میرا تمہارا فیصلہ ہو گیا اور مرزا صاحب تو الگ رہے تمہارا بھی جھوٹ پکڑ لیا ہے یہ لو دس روپے انعام اور ساتھ میں بیعت بھی کر لوں گا لفظ منسوخ" دکھا دو اور میں تمہیں پڑھاتا ہوں کہ لفظ منسوخ نہیں ہے بلکہ فسخ ہے۔میں اب بیٹھ جاتا ہوں تم لفظ منسوخ رکھا کر دس روپیہ انعام بھی لو اور میں بھی بیعت کرلوں گا۔میں نے اپنے احباب سے حوالہ کے متعلق پوچھا تو کسی کو بھی یاد نہ تھا مگر میں نے اسے ایک زمانہ میں پڑھا تھا مگر یہ یاد نہ تھا کہ کس کتاب میں تھا۔میں نے