میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 161 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 161

149 کی ساری ہسٹری سنائی۔جس پر وہ بہت حیران ہوئے۔ہم سارا دن اور رات دھر مسال میں رہے۔غیر احمدی ہم سے خوب مسائل وغیرہ دریافت کرتے رہے۔مولوی احمد دین صاحب گھڑی سے مناظرہ میں ابھی ٹائیں مشکوٹ میں ہی رہ رہا تھا کہ ایک وقعه مولوی کرم دین صاحب شیند رہ والے میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ لاہوری جماعت والوں نے اور اپنے احمدی احباب نے آپ کو اسی وقت پونچھ بلوایا ہے اور سلاتے ہی جماعت کی طرف سے رقعہ دیا جس میں لکھا تھا کہ احمد دین صاحب اور نور حسین صاحب گر جا کھی پونچھ آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے احمدیت پر بڑے ذلیل اعتراض کئے ہیں اور ساتھ ہی مناظرہ کا چیلنج دیا ہے جو ہم نے منظور کر لیا ہے۔صبح گیارہ بجے عید گاہ میں صداقت حضرت مسیح موعود پر مناظرہ ہو گا۔اس لئے آپ اسی وقت تشریف لے آئیں۔وہ پہلے ہی میرے پاس عصر کے وقت پہنچے تھے اور پونچھ کا فاصلہ بھی وہاں سے پچیس میل کا تھا۔اس کے علاوہ سواری کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔چنانچہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے چھ آدمیوں کا گروپ نورا" چل پڑا اور بڑی مشکل سے رات بارہ بجے ہم پونچھ پہنچے۔تھکان بہت ہو چکی تھی۔اسی وقت مد مقابل مولویوں کی طرف رقعہ لکھ کر ایک صاحب کے ہاتھ بھجوایا کہ ابھی مناظرہ کی شرائط طے کر لو مگر مولویوں کی طرف سے جواب آیا کہ کوئی شرائط طے نہیں ہوں گی بلکہ کھلا مناظرہ ہو گا اور اس بات کی ہمارے پاس تحریر آگئی میں نے دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد مناظرہ کی تیاری شروع کر دی۔دن کے دس بجے ہم سب لوگ میدان مناظرہ میں پہنچ گئے۔ان کی طرف سے مولوی گھڑی صاحب مناظر اور گرجاکھی صاحب ان کے معاون مقرر ہوئے۔مکرم کرم دین صاحب سنار صدر مقرر ہوئے۔ہماری طرف سے لاہوری پارٹی کے خواجہ محمد عبد اللہ صاحب صدر