میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 163 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 163

151 یونی کتاب "حقیقتہ الوحی" ہاتھ میں پکڑلی۔کھولی تو ضمیمہ کے صفحہ نمبر ۱۳۲ پر اسی حوالے پر میری نظر پڑی کہ "جس طرح یونس کی پیشگوئی جو شرعی ہی نہ تھی وہ منسوخ ہو گئی اس طرح پیشگوئی کا یہ حصہ بھی تاخیر میں پڑ گیا یا منسوخ ہو گیا۔میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔حافظ صاحب نے جس کے پاس دس روپے رکھوائے تھے میں نے انہیں آواز دی کہ بابو صاحب تشریف لے آئیں اور حوالہ دیکھ لیں۔وہ بابو ہمارا سخت مخالف تھا۔بولا آجاتا ہوں۔میں تمہاری طرح بے ایمان نہیں ہوں۔میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس کے ایسے گستاخانہ بولنے پر تھانیدار صاحب اور دوسرے لوگوں نے بہت برا منایا تھا۔ہمارے روکتے روکتے ہمارے لاہوری صدر صاحب نے اسے گالیاں دینا شروع کر دیں کہ تم نے مولوی صاحب کو بے ایمان کیوں کہا ہے۔اس طرح ساری پبلک میں کھلبلی مچ گئی۔ادھر تھانیدار صاحب نے اٹھ کر اس بابو کی کمر میں زور سے ٹھنڈ " (لات مارنا) مار دیا کہ تم نے بلاوجہ گالی بک کر مجمع خراب کر دیا ہے۔تمہیں ابھی حوالات بھیجوں گا۔وہ بھاگ کر دس روپیہ کا نوٹ انہیں ہی واپس دیکر کر بھاگ گیا۔مناظرہ کا بھی اب کچھ مزہ نہ رہا کیونکہ آدھے لوگ بیٹھے تھے اور آدھے کھڑے تھے۔میں نے حافظ صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حافظ صاحب دس روپے تو میرے ہو گئے چاہے آپ یہاں دیں یا اگلے جہان میں یہ آپ کی مرضی ہے مگر حوالہ دیکھ لیں۔نور حسین صاحب حوالہ دیکھ کر کہنے لگے یہ حوالہ تو درست ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ مرزا صاحب بچے ہیں۔میں نے کہا کہ پہلے تو آپ نے یہی معنی کئے تھے کہ اگر لفظ منسوخ دکھا دو تو میں بیعت کر لوں گا مگر اب آپ کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ حافظ صاحب اس پیشگوئی پر ہر جگہ اعتراض کرنا بھی مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرتا ہے کیونکہ مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ بتا دیا تھا کہ يموت و يبقى منه كلاب