میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 80
68 دیا۔انہی ایام میں خدام صوفیہ جماعت علی شاہ علی پوری کے خدام صوفیہ کی آمد چند مرید بھی اس علاقہ میں پہنچے۔انہوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اسٹیشن دریاؤ گنج کے پاس مجمولہ گاؤں میں قائم کر رکھا تھا۔یہ تین چار مولوی تھے۔مولوی بھور میخاں جاہل رہنگ کے ضلع کا رہنے والا دیہاتی زمیندار تھا۔کرخت آواز لمبا سا قد اور سخت لڑاکا آدمی احمدیت کا شدید مخالف اور مکروہ گالیاں دینے والا تھا۔دوسرے مولوی امام الدین صاحب تھے جو نہایت شریف اور معقولیت سے بات کرنے والے آدمی تھے۔یہ دونوں جماعت علی شاہ صاحب کی طرف سے مبلغ گئے ہوئے تھے۔ان کے علاوہ وہاں بریلوی اور دیو بندی مولوی بھی تھے جو رات دن ہمارے خلاف فتوے دینے اور مخالفت کرنے پر کمربستہ رہتے تھے۔دیو بندی مولوی سرور حسین صاحب عبد الرؤف صاحب محمد ادریس صاحب بیٹی خاں صاحب بدر الحسن صاحب میرک شاہ صاحب اور انور شاہ صاحب وغیرہ سے میری ملاقات اکثر ہوتی رہتی تھی۔پہلے چار مولویوں سے تو میرے مناظرے بھی ہوتے رہے تھے۔وہ میرے ساتھ بڑے بے تکلف تھے میرے ہی پاس آکر ٹھرتے تھے۔جب کبھی بات چیت کرتے ہوئے مجھے دیکھتے تو گھبرا جاتے تھے مگر باہر جا کر ہمارے خلاف قسم قسم کے فتوے دیتے تھے کہ یہ قادیانی ہرگز مسلمان نہیں ہیں۔جو کوئی انہیں مسلمان کہتا ہے وہ خود بھی کافر ہو جاتا ہے۔جو ان کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھالے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے جو انہیں السلام علیکم کہتا ہے وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔غرضیکہ ہر قسم کی خرافات بیان کر کے ہمارے خلاف اشتعال پیدا کرتے تھے۔وہاں کے اکثر لوگ چونکہ ان پڑھ تھے۔وہ ان کی باتوں کو سن کر بہت گھبراتے اور کہتے کہ یہ کیسی بات ہے کہ قادیانی مولوی ہی ہمارے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں۔