میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 76 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 76

64 کہ مسلمان ایسی بدکار عورتوں کو اپنے محلے میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ ایسی عورتیں ہندوؤں کے بازار میں آجاتی ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں بھی نیوگ کی تعلیم ہے اس لئے یہ بازار میں بھی برا نہیں منائیں گے۔میں نے سوال کیا کہ ٹھاکر صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلے جنم میں آپ کیا تھے اور پھر کیا آپ اچھے کام کر کے اپریشک آدمی بنے ہیں۔ٹھاکر صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں کسی بڑے پنڈت کو لیکر کسی وقت اسی جگہ آؤں گا اور پھر آپ کی تسلی ہو جائے گی۔میں نے کہا کہ آپ نے اپنے ذمہ بہت سا قرض چڑھا لیا ہے۔کیا آپ پنڈت کو لے کر آنے کی کوئی تاریخ بتا سکتے ہیں تاکہ میں بھی اس دن اسی گاؤں میں موجود رہوں۔ٹھا کر صاحب بولے میں آپ کو بذریعہ چٹھی (خط) اطلاع دے دونگا۔میں نے کہا آپ کا شکریہ ٹھاکر صاحب جان چھڑا کر ایسے رفو چکر ہوئے کہ بعد میں نہ تو کوئی مخط ہی ملا اور نہ خود ہی کبھی دکھائی دیئے۔مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ ہمارے ملکانے بھائیوں کو کئی باتوں کا علم ہو گیا اور ان کو مجھ سے اور زیادہ محبت پیدا ہو گئی۔بعدہ وہاں کے نوجوانوں نے مجھ سے پڑھنے کا اصرار کیا۔میں نے ہاتھ سے ادب لکھ کر پڑھانا شروع کر دیا۔پھر قادیان چٹھی لکھی کہ دو درجن قاعدے میسرنا القرآن بھجوا دیں۔چنانچہ میں شاگردوں کو قاعدہ پڑھانا شروع کیا۔آہستہ آہستہ چھوٹی بچیوں نے بھی آنا شروع کیا اور میں نے ان کو بھی قرآن پڑھایا۔نگلہ گھنو میں جے پور کے رہنے ایک غیر احمدی وکیل کا اظہار خوشنودی والے ایک غیر احمدی دوست چوہدری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ میرے کام کا معائنہ کرنے کے لئے آئے تھے۔جو اکثر احمدیوں کا کام دیکھ کر یہی کہا کرتے تھے کہ دین حق تو صرف احمدیوں ہی کے پاس ہے اور یہی آریوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں ان کے بر عکس دیو بندی وغیرہ سب