میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 75 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 75

63 در پدر نیوگ کا مسئلہ لئے پھرتے ہو تم آفریں اس وید پر اور اس کی اعلیٰ شان کے کتے کتیا کھیلتے تھے ایک دن مندر کے پاس آریہ انکو بلاتے تھے بڑوں کے نام سے ہیں بزرگ یہ سب ہمارے آج قسمت سے ملے ہم کھلائیں گے انہیں بھوجن بڑے آرام سے یہ صرف چودہ مصرعے ہیں کل ستر مصرعے تھے جن میں پورا مضمون تاریخ، جون بدلنا اور پھر کسی بھی عبادت یا عمل سے بخشش نہ ہونا درج تھا۔میں کوئی شاعر نہیں، نہ قابلیت ہی ہے مگر ملکانوں نے خوب مزے لے لے کر بار بار انہیں سنا تھا۔ٹھا کر صاحب نے یہ اشعار سن کر جھٹ کہہ دیا کہ میں اس قسم کا آریہ نہیں ہوں۔میں نے کہا کہ پھر آریوں کی قسمیں ہو ئیں۔کوئی پنڈت دیا نند کو سچا جاننے والا جبکہ آپ اسے جھوٹا بتا رہے ہیں کیونکہ پنڈت صاحب نے تاکید کی ہوئی ہے کہ جس طرح شادی بیاہ ہے اسی طرح نیوگ ہے مگر جو بیاہ سے پیدا ہوں ان کا اظہار تو بڑی خوشی سے کیا جاتا ہے مگر جو نیوگ سے پیدا ہوتے ہیں آپ ان کی کوئی فہرست نہیں دکھا سکتے تو معلوم ہوا کہ یہ معیوب چیز ہی ہے۔ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ مسلمانوں میں بھی عیب ہیں۔ان کے ہاں بھی بہت بازاری عورتیں موجود ہیں۔میں نے کہا ٹھا کر صاحب یہ کوئی قومی یا مذہبی اعتراض نہیں ہے۔ہم نے تو مذہبی گفتگو کرنا ہے۔ہما را دعوی ہے کہ دین حق ایک عالمگیر مذہب ہے۔اس کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ایسا فعل کیا جائے بلکہ ایسا فعل کرنے والے کی دین حق نے بہت سخت سزا رکھی ہوئی ہے۔یعنی سو 100 کوڑوں کی سزا۔کسی شخص کا یہ فعل کرنا شخصی جرم ہے مذہبی نہیں۔دوسرا ایسی بدکار عورتوں کا ہندوؤں کے بازار میں بیٹھنا بھی یہی ثابت کرتا ہے