میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 62
50 ارے یہ کوہ ہے؟ یعنی یہ کون ہیں؟ تھوڑی دیر کے بعد ایک معمر آدمی جس کا نام ممتاز علی خان تھا آیا۔اس نے بڑی عمدہ سلیس اردو میں ہمارے ساتھ مہذبانہ طریق سے بات کی۔ہمیں اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔وہ تعلیم یافتہ آدمی تھا۔ہم نے اسے اس ملک میں آنے کی غرض بتائی۔وہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ میں پہلے آپ کے کھانے کا انتظام کر آؤں پھر بیٹھ کر باتیں کریں گے۔بابو صاحب کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں تو اب نہیں رہوں گا آپ کوئی اور گاؤں قریب ہی تلاش کرلیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔انشاء اللہ تعالی میں بھی کوئی گاؤں تلاش کر لوں گا۔آپ بے فکر رہیں۔رات کو کافی دوست اکٹھے ہو گئے۔میں نے ان سے ارد گرد کے دیہات کا پتہ لیا۔ان سے قسم قسم کی باتیں کر کے ان سے تعلقات پیدا کئے۔وہ لوگ مجھ سے زیادہ مانوس ہو گئے کیونکہ بابو صاحب کم گو تھے اور مجھے باتیں کرنے کا شوق پرانا ہی تھا۔رات کے بارہ بجے مجلس برخواست ہوئی۔میں نے کچھ طالب علم بھی بابو صاحب کو مہیا کر دیے۔صبح کے وقت میں نے نماز پڑھائی جس میں دو تین مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی۔دن کے دس بجے میں اپنا بستر اور دیگر سامان اٹھا کر وہاں سے روانہ ہوا۔ابھی دو میل کے قریب ہی سفر کیا تھا ایک گاؤں میں بیت نما بوسیدہ سا مکان دیکھا۔میں نے ایک مقامی دوست سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ ملکانہ مسلمانوں کا گاؤں ہے۔اور اس کا نام نگہ گھنو ہے۔میں اس بوسیدہ سے مکان میں پہنچا۔اس میں محراب بھی بنا ہوا تھا اور فرش پر گھاس اگا ہوا تھا۔وہیں میں نے اپنا ڈیرہ جما لیا۔وہاں پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ نہ تھی۔تھوڑی دیر کے بعد ایک معمر سی عورت آئی۔میں نے السلام علیکم کہا۔اس نے کہا بیٹا جیتے رہو۔تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کام ہے۔میں نے اپنی آمد کی غرض بتائی کہ آریوں سے اس قوم کو بچانے کے لئے ہمارے پیارے امام