میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 23 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 23

17 کہ بچے کا کیا حال ہے۔میرے والد صاحب نے جواب دیا کہ اب آخری وقت معلوم ہوتا ہے اور آنسو ٹیکنے شروع ہو گئے۔حضور نے مصلے پر کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ میاں صاحب کا بیٹا سخت بیمار ہے اس لئے خدا تعالی کے دربار میں اس کی صحت کے لئے ایسے درد دل سے دعا کریں جو خدا تعالٰی منظور ہی کر لے اور پھر نماز میں بہت گڑ گڑا کر دعا کی گئی۔میرے والد صاحب نے فرمایا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب میرا بچہ ضرور اس موذی مرض سے شفاء پائے گا۔نماز کے بعد حضور نے بھی میرے والد صاحب کو تسلی دی۔جب آپ گھر کے پاس پہنچے تو مکرم بابا حسن محمد صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا ملے اور کہنے لگے کہ مجھے آپ کے بیٹے کا بہت افسوس ہے۔میرے والد صاحب گھبرا گئے اور گھر تک دونوں ہی آئے۔پتہ چلا کہ مجھے بے ہوشی ہے مگر سانس چلتا ہے۔آپ نے سجدہ شکر کیا۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے قدرے ہوش آیا اور میں نے اپنا خواب سنانا شروع کیا۔خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں فوت ہو گیا ہوں اور مجھے نہلا کفنا کر عید گاہ والے قبرستان میں لے گئے ہیں۔میری آنکھیں بند ہیں مگر میں سب کو دیکھتا ہوں اور ان کی باتیں سنتا ہوں مگر بول نہیں سکتا۔میری چارپائی کو قبر کے پاس لے جا کر رکھ دیا ہے اور شیخ جھنڈو خوجہ جو ہمارا ہمسایہ تھا اور جس کی فروٹ کی دوکان بیت اقصیٰ کے کونے پر تھی میری قبر کو صاف کر رہا تھا جب کفن میں سے میں نے اسے صفائی کرتے ہوئے دیکھا اور پہلا کر کہا کہ میں نے دوبارہ اس دنیا میں نہیں آتا۔ذرالحد کو خوب صاف کر دو۔اس نے جواب دیا کہ میں نے لھ کو خوب صاف کر دیا ہے اور اب میں اس میں باریک ریت بچھانے لگا ہوں تاکہ کوئی کنکر وغیرہ نہ چھے اور بیچ میں لیٹ کر دیکھتا ہوں کہ لحد تنگ تو نہیں ہے اور پھر خود اس میں لیٹ جاتا ہے اور مجھے ایک بہت خوبصورت بیت دکھائی دیتی ہے اور میں شیخ صاحب سے کہتا ہوں کہ تم قبر کو اچھی