میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 24 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 24

18 طرح صاف کر دو میں جاتے جاتے آخری مرتبہ نماز بیت میں ادا کر آؤں۔میں اٹھ کر بیت میں چلا گیا اور وضو کر کے نماز پڑھنے لگا تو مجھے ہوش آگیا اور شیخ صاحب قبر اہی میں رہ گئے۔تھوڑے سے وقفہ کے بعد شیخ صاحب کے مکان سے رونے کی آواز یکبارگی میرے کان میں پڑی تو میں نے کہنا شروع کر دیا کہ شیخ جھنڈو فوت ہو گئے ہیں۔مگر میری کمزور حالت کو دیکھ کر میرے والدین نے شیخ جھنڈو کی وفات کی خبر مجھ سے چھپائے رکھی مگر میں نے دریافت کر کے ہی چھوڑا کہ واقعی شیخ صاحب قبر میں پہنچ گئے ہیں۔میں خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے تندرست ہو گیا۔صرف میری دائیں آنکھ پر اس بیماری کا اثر پڑا باقی جسم ٹھیک رہا۔الحمد للہ۔چونکہ میں سخت بیمار رہا تھا اور کمزوری حد سے تجاوز کر چکی تھی اور کچھ کھانے پینے کو جی نہ چاہتا تھا۔گھر والے کچھ نہ کچھ کھانے پر مجبور کرتے۔ان کے بار بار اصرار پر میں نے کہا کہ دال ماش کی کھچڑی پکائیں اور اس میں سے نصف حضرت خلیفہ اول کھائیں گے تو پھر کھاؤں گا ورنہ کچھ نہیں کھاؤں گا۔میری والدہ صاحبہ اسی وقت حضور کے گھر گئیں اور سارا قصہ سنا دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اسی وقت حکم دیا کہ اسی قسم کی کھچڑی بناؤ لہذا ایسا ہی کیا گیا اور اس میں سے دو چار تھے حضور نے کھائے اور باقی حصہ بیچ سمیت میرے لئے بھیج دیا۔متواتر ایک ہفتہ حضور اسی طرح کرتے رہے۔اے خدا ان کو جنت الفردوس میں خاص مقام عطا فرما اور ان کی اولاد پر بھی میں۔رحم فرما۔آمین۔۱۹۱۲ء اور ۱۹۱۳ء میں دونوں سال میں بیت اقصیٰ قادیان میں اعتکاف ایک رویا بیٹھا۔۱۹۱۳ء کے رمضان شریف کے آخری عشرہ میں جب ہم اعتکاف بیٹھے تو بہت اقصیٰ میں بہت رونق تھی اور کافی اصحاب اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت صرف چند کے نام یاد ہیں۔حافظ روشن علی صاحب صوفی غلام محمد