میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 22 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 22

16 وقت ہوئی۔یہ غم ناک نظارہ ہمیں عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ہمیں یہ فخر ہے کہ خدا کے ایسے مقرب بندے کی تدفین میں ہمارا حصہ بھی شامل ہے۔آپ کی وفات کے کئی دن بعد تک اداسی کی کیفیت زائل نہ ہوئی۔غیر احمدی بھی کہنے لگے کہ اس جماعت کا شیرازہ صرف مرزا صاحب کے وجود ہی سے تھا۔اب یہ سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خدائی سلسلہ کی نگرانی اللہ تعالی خود ہی کرتا ہے۔چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے کتنی ترقی کی ہے اور کرتی چلی جا رہی ہے۔"خلافت اولی" ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء بوقت دو بجے دن حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا زمانہ شروع ہوا۔آپ کی خلافت میں قادیان کے مضافات کی زمین بھی آباد ہونے لگی۔وہاں مولوی شیر علی صاحب کی کو ٹھی بھی بنی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول اور بورڈنگ کی تعمیر ہوئی۔بیت اقصیٰ میں بھی پہلی بار توسیع آپ ہی کے زمانہ میں ہوئی۔1910ء میں طاعون کی وباء دوبارہ طاعون کا حملہ اور میری دوسری زندگی قادیان میں پھیل گئی اور میں بھی اس بیماری میں مبتلا ہو گیا۔جتنے بھی غیر احمدی اس وباء کا شکار ہوئے تھے کوئی بھی جانبر نہ ہو سکا تھا اس لئے جس وقت کسی کو طاعون ہو جاتی تو فورا اس کی قبر کھودنے کا انتظام کیا جاتا۔میرا مرنا بھی مشہور ہو گیا۔میرے والدین کو اس بات کا شدید صدمہ تھا۔بار بار حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو کر میری حالت سے آگاہ کرتے رہے۔ایک دن میری حالت اتنی خراب ہو گئی کہ لمحوں کا مہمان نظر آنے لگا اور موت کے آثار دکھائی دینے لگے۔میرے والد صاحب حضرت خلیفہ اول کے پاس نماز ظہر کے وقت بیت اقصیٰ میں پہنچے۔حضور نے میرے والد صاحب سے پوچھا