میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 239
227 کلاں، دیونہ، ماجرہ کھوکھر غربی، گوٹریالہ کنجاہ چوکنانوالی، جسو کے دھارو کی، لنگے، سعد اللہ پور آڑہ ، نورنگ ، تال، سرائے عالمگیر، بلانی ، گڑھا وغیرہ۔اسکے علاوہ اور بھی بہت سے دیہات تھے۔ان اضلاع کے علاوہ بھی دورے کیے مثلاً لاہور، چک نمبر ۱۴۴ پھیکی، جڑانوالہ ٹلائل پور چک جھمرہ سانگلہ ہل شاہ کوٹ، حافظ آباد گوجرانوالہ راحوالی، وزیر آباد، شورکوٹ، چک نمبر ۱۰۹، نمبر ، چنیوٹ، سرگودھا دھیر کے، راولپنڈی، چک لالہ، کیمبل پور مانسر کیمپ واہ کیمپ سهال ڈھلیاں ڈھکی ڈھوک، سنگرال جهان مندال چونترہ اسرال تکہ بجاڑ محموده گنگا نوالہ پنڈ ملو غرضیکہ تحصیل فتح جنگ میں ان جگہوں کا دورہ کیا۔بعض مقامات ان میں ایسے ہیں جن کا بارہا دورہ کیا گیا۔مذکورہ بالا فہرست ان مقامات کی ہے یعنی ان شہروں اور دیہات کی ہے جن کا دورہ قادیان سے نکلنے کے بعد حلقہ جہلم مقرر ہونے پر کیا گیا یعنی ۲۵ اکتوبر ۱۹۴۷ء تا ۲۲ دسمبر ۱۹۵۱۷ء۔اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ آگیا۔۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے۔کلانور ضلع جوتوں کی بارش اور کلانور میں مناظرہ گورداسپور میں جلسہ اور مناظرہ تھا۔کیونکہ ضلع گورداسپور میرا تبلیغی حلقہ تھا اور کلانور ہیڈ کوارٹر کلانور میں حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی مولوی ابوالعطاء صاحب مولوی محمد یار صاحب مولوی غلام احمد صاحب اور یہ عاجز مناظرہ کیلئے پہنچے۔جب ہم شہر میں داخل ہوئے تو ایک گلی سے گزرتے ہوئے ہم پر پرانے ٹوٹے پھوٹے جوتوں کی بارش ہونے لگی۔وہاں مخالفین نے لوگوں سے ہماری آمد پر ایسا کرنے کیلئے پہلے ہی کہہ رکھا تھا۔ہمارے قافلے میں مولانا راجیکی صاحب سب سے آگے اور یہ عاجز سب سے پیچھے تھا۔خدا کی قدرت کہ ہم میں سے کسی کو ایک جوتا بھی نہ لگا۔کوئی