میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 240 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 240

228 جو تا آگے گر جاتا تو کوئی پیچھے کوئی دائیں تو کوئی بائیں سب سے آخر میں کسی نے اوپر سے ۱۴ نمبر کے بالکل نئے سلیپر پھینکے جو ان دنوں چودہ آنے میں ہی آتے تھے۔میں نے وہ سلیپر اٹھا لیے ہم اپنی قیام گاہ مرزا مبارک احمد صاحب کے گھر پہنچ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد سلیپروں کی مالکہ کا خاوند ہمارے پاس پہنچ گیا۔کہنے لگا کہ ہمارے بچے نے گلی میں سلیپر پھینک دیئے تھے۔وہ آپ میں سے کسی مولوی صاحب نے اٹھا لیے ہیں۔میں بڑا غریب آدمی ہوں ایک مہینہ سے میری بیوی ننگے پاؤں تھی۔آج ہی میں نے اس کو یہ نئے سلیپر لا کر دیئے تھے جو ہمارے بچے نے گلی میں پھینک دیئے میں گھر پہنچا تو بیوی رو رہی تھی۔مجھے بتانے لگی کہ بچے نے سلیپر گلی میں پھینک دیئے ہیں۔جبکہ دیگر عورتیں پرانے جوتے پھینک رہی تھیں۔وہ بتانے لگا کہ میں نے بیوی کو بھی سزا دی ہے اور بچوں کو بھی کہ تم مولوی صاحبان پر جوتے برسانے کیلئے کیوں چھت پر جا چڑھی تھیں؟ خیر ہم نے افسوس کیا اور کہا کہ اگر تم کسی کو سزا نہ دیتے پہلے ہی ہمارے پاس آجاتے تو بھی سلیپر تمہیں واپس مل جاتے۔پہلے سزادے کر آپنے ان پر سختی کی ہے اور غلطی کی ہے۔یہ اپنے سلیپر آپ لے لیں اور بیوی بچوں کو جا کر خوش کریں۔اس نے بہت شکریہ ادا کیا اور خوشی خوشی سلیپر واپس لے گیا۔اسی دن ہمارا عیسائیوں سے مناظرہ تھا۔مولوی غلام رسول صاحب چونکہ امیر سفر تھے جو قادیان سے مقرر ہو کر گئے تھے۔جب بٹالہ پہنچے تو مولانا راجیکی صاحب نے فرمایا کہ یہ ضلع تبلیغ کے لیے مولوی محمد حسین کے سپرد ہے۔اب میں اپنی طرف سے ان کو امیر سفر مقرر کرتا ہوں۔جب کلانور میں مناظرے کا وقت ہوا جو عیسائیوں سے تھا تو مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ یہ مناظرہ آپ نے کرتا ہے۔حضرت مسیح کے کفارہ" پر مناظرہ تھا۔پہلی ٹرن میں مسیح کا کفارہ ہونے کے متعلق چند لایعنی سی باتیں پادری نے بیان کیں۔میں نے جوابا پادری سے سوال