میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 238
226 سے پشاور تک ہو ئیں۔واپسی پر حضور پھر تشریف لائے۔آپ نے سید عزیز اللہ شاہ صاحب کے ہاں کھانا کھایا اور باقی قافلہ کو جماعت جہلم نے کھانا کھلایا۔وہاں کے امیر جماعت سید امان اللہ شاہ صاحب دورہ پر گئے ہوئے تھے اور قائم مقام امیر مجھے بنا گئے تھے اسلئے حضور مجھے علیحدگی میں لیجا کر دریافت کرنے لگے کہ راجوری مسلمانوں کے قبضہ سے کس طرح نکل گئی۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور ادھر جرال قوم جن کا سرغنہ مرزا محمد حسین آف بھروٹ تھا انہوں نے آزاد فوج سے کہا تھا کہ راجوری میں کسی وقت ہماری حکومت تھی اور اب ہم نے دوبارہ اپنے زور بازو سے خالی کرائی ہے اس لئے اب اس جگہ ہماری حکومت اور قبضہ ہے۔اس طرح آزاد فوج ناراض ہو کر پیچھے ہٹ گئی۔ایسا دیکھ کر ہندوؤں نے دوبارہ یلغار کر کے قبضہ کر لیا اور تمام علاقہ مسلمانوں سے خالی کروالیا۔مرزا محمد حسین وغیرہ کے مکان لوٹ کر جلا دیئے گئے۔حضور فرمانے لگے کہ آپکی یہ رپورٹ صحیح ہے اور اسی روز پچھلے پہر حضور لاہور تشریف لے گئے۔فهرست دوره کرده مقامات کئے اور کام کرتا رہا۔میں نے جہلم اور گجرات کے اضلاع میں اپنی تقرری کے دوران درج ذیل علاقوں میں دورے شادیوال، مجرات جو لیکی چک سکندر، منڈی بہاؤالدین وغیرہ میں تو جلسہ جات کئے اور محمود آباد جہلم کالا گجراں، چک جمال، پڑیلہ، چک لطیف اللہ ، نہ پور دھنیالہ دینہ، رہتاس ، پنڈوری، بھڑ چکوال، ڈھلوال، دلیل پور کلر کہار، دوالمیال کھیوڑہ، چوہا سیدن شاہ پنڈ دادنخان ملک وال، کامیلہ، ترکی، مسراڑہ ، کھاریاں کوٹلہ فقیر خورد پطوالہ ، پنڈ عزیز، دستیال ، نگیال ، میرپور، کوٹلی، قیال، ٹاہلیاں، شیخ پور، نسووال کڑیانوالہ، بھنوا عالمگڑھ، فتح پور چودو دال ، جلالپور جٹاں، شادیوال، سوک