میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 229 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 229

217 یہ جرات کیسے کی ہے جب کہ اس قصبہ میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ان کے خدا رسول اور اسلام پر انہوں نے سوقیانہ قسم کے اعتراض کئے ہیں۔اس کی وجہ صرف اور صرف تحصیل دار صاحب کا آریہ اور جج صاحب کا ہندو ہونا ہی ہو سکتی ہے۔ورنہ پہلے کبھی ایسا کیوں نہیں ہوا تھا۔میں نے اس جوش کو ٹھنڈا کرنے کی یہی تجویز سوچی کہ آریوں کے سب اعتراضوں کا مدلل جواب دے کر بتایا جائے کہ یہ کم علمی تعصب کی بناء پر اعتراض کئے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہو جائیں اور ہندو صحیح حقیقت جان کر امن کی فضا پیدا کر سکیں اور ساتھ ہی فتنہ پرداز لیکچراروں سے نفرت کریں۔دوسرے لفظوں میں چونکہ ابتداء آریوں کی طرف سے ہوئی ہے اس لئے میرے اس وقت آریہ صاحبان ہی مخاطب ہیں اور انہیں کے لئے میرے سب جوابات ہیں۔سناتن دھرمی جو آریوں کی تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہیں میرے مخاطب نہیں ہیں۔اس وقت میرے پاس صرف (1) رگوید آدمی بھاشیہ (۲) ستیارتھ پرکاش (۳) منو شاستر اور (۴) سنس کا رود ہی موجود ہیں۔میں سب سے پہلے ان لوگوں نے جو اسلام پر اعتراضات کئے ہیں ان کے جوابات دوں گا اور جب قرض اتر جائے گا تو پھر آریہ سماج کا فوٹو لوگوں کو دکھاؤں گا کہ یہ تعلیم دیانندی ہے جسے آریہ سماج لیکر اسلام کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔پہلا اعتراض کہ لفظ " اللہ " کے لغت سے معنی دکھاؤ اور پچاس روپے انعام لو۔ہمارے آریہ اپریشک اس قسم کے جاہل ہیں کہ عام جاہلوں کو بھی ان پر رونا آجاتا ہے۔لغت تو لوگوں نے بنائی ہے۔کیا انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کا نام تجویز کرنا تھا۔تف ہے ایسی عقل پر۔خدا تعالٰی نے اپنے کلام میں اپنا نام اللہ بتایا اور کہا کہ یہ میرا ذاتی نام ہے۔باقی سب میرے صفاتی نام ہیں اور خود ہی اپنے کلام میں لفظ "اللہ" کے معنی بھی بتائے ہیں کہ اللہ کے معنی الحي القيوم العلى العظيم الرحمن الرحيم