میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 228
216 اگلے روز جلسہ کے دن پونے تین بجے شام میرے بھدرواہ میں جوابی جلسہ پاس ایک سپاہی آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو تحصیلدار صاحب بلا رہے ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ تحریری حکم لاؤ حاضر ہو جاؤں گا۔اب ہمارے جلسہ کا وقت ہو گیا ہے اور میں وہاں جا رہا ہوں پلک میری منتظر ہے۔جب میں میری بازار چوک والے وسیع میدان میں پہنچا تو وہاں پبلک ہزاروں کی تعداد میں بیٹھی تھی۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی مستورات ارد گرد کے مکانات کی چھتوں پر بیٹھی تھیں اور آریہ اپدیشک میرے سامنے ایک آریہ ڈاکٹر کی دوکان پر بیٹھے تھے۔تحصیل دار صاحب بھی کٹر آریہ تھے۔وہ قریبی ہسپتال کے ایک کمرہ میں آکر بیٹھ گئے اور حج صاحب ہندو تھے۔میں نے تلاوت اور نظم جس کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے۔اے آریہ سماج پھنسو مت عذاب میں پڑھوائی پھر کلمات شہادت فاتحه و درود شریف وغیرہ سے اپنی تقریر کے واسطے تمہید باندھی کہ احباب کرام موجودہ گورنمنٹ کے قانون میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو اس بات کی آزادی ہے کہ اپنے اپنے مذاہب کی پر امن طریق پر تبلیغ کریں مگر یہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے مذہب والوں کے اعتقادات و مسلمات اور اصولوں کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے ان کی دل شکنی اور اپنی جہالت کا ثبوت دینے کو کھڑا ہو جائے۔میں عرصہ پانچ سال سے اس بھدرواہ شہر میں اگر تقاریر کر رہا ہوں، ہمیشہ اسلام کی خوبیاں بیان کرتا رہا۔آریہ و سناتن پنڈت صاحبان بھی آتے رہے اور اپنا پرچار کر جاتے رہے کبھی کسی نے ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کیا۔تمام ہندو اور مسلمان نہایت محبت اور پیار سے رہتے رہے ہیں مگر امسال جو آریہ لیکچرار تشریف لائے ہیں انہوں نے اپنی تقاریر سے پبلک کی فضا خراب کر دی ہے اور اسلام پر ایسے رنگ میں حملے کئے ہیں جو مسلمانوں کی برداشت سے تجاوز کر گئے ہیں اور مسلمانوں کو اس چیز کا بہت دکھ ہے کہ آریوں نے