میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 220
208 کی ایک چھوٹی بچی دو بڑے لڑکے اور ایک بیوی یعنی وہ کل پانچ نمبر تھے۔میں نے اس چھوٹی بچی کو ایک چونی دی۔اخون صاحب بولے کہ مولوی صاحب اس جگہ یہ سب یزیدی ہیں اور یہ نقصان کرنے میں کوئی فرق کرنے والے نہیں ہیں۔آپ کا ہتر اور سامان بھی ہم نہیں لے آتے ہیں۔آپ اسی بیٹھک میں رہیں اور جو کھانا آپ کہہ دیا کریں گے پک جایا کرے گا۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔وہ میرا بستر اور سامان چوہارے سے اٹھا لائے۔میں نے اس کی بیٹھک میں رہنا شروع کر دیا۔گھی آنا وغیرہ منگوا لیا اور گزارہ ہونا شروع ہو گیا۔اگلے ہی دن اس کی طرف چند آدمی آئے اور کہنے لگے کہ تم نے سارے شہر کے برعکس ایک مرزائی کو جگہ دی ہوئی ہے۔اگر تم نے فورا اسے نہ نکالا تو سارا شہر تم سے بھی بائیکاٹ کر دے گا۔وہ کہنے لگا کہ میرے اس مکان میں تحصیلدار اور پٹواری صاحب بھی رہے ہیں۔وہ یہاں شراب تک پیا کرتے تھے مگر کسی ایک نے بھی کبھی اگر یہ نہ کہا کہ انہیں نکال دو اور اب جو قرآن کریم حدیث نماز و تسجد کا پابند اور رسول کریم ﷺ کی باتیں سنانے والا آیا ہے تو اسے نکالنے کے لئے آرڈر لے کر آگئے ہو۔جاؤ ان سے کہہ دو کہ وہ نہیں نکالتا۔میں تم سب کی مسلمانی کو جانتا ہوں۔ذرا میرا بائیکاٹ کرنا پھر تمہاری اور میری باتیں ہوں گی۔لفنگے کہیں کے مجھے ڈرانے آئے ہیں کہ بائیکاٹ کر دیں گے۔بھدرواہ میں اخون صاحب کے گھر گئے ہوئے بھدرواہ میں قتل کا منصوبہ ابھی مجھے دوسرا ہی دن تھا کہ ایک نوجوان نے مجھے آکر بتایا کہ یہاں کے لوگوں نے آپ کو قتل کروانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کام کی ذمہ داری ایک پٹھان نوجوان عبد الرحمن خان نے اپنے ذمہ لی ہے۔وہ آپ کو موقع پا کر گزند پہنچائے گا اور وہ بڑے جوش و خروش سے آپ کی تلاش میں ہے۔میں نے کہا کہ اگر میری موت مجھے بھدرواہ لیکر آئی ہے تو اس سے کیا انکار ہو