میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 221
209 سکتا ہے۔آپ نے مجھے اطلاع دی ہے اس لئے آپ کا شکریہ مگر اتنا احسان کر دیں کہ خانصاحب کی مجھے شناخت کرا دیں۔وہ بولا کہ آپ ابھی عزیز درزی کی دوکان پر آجانا غالبا وہ ابھی وہیں بیٹھا ہوا ہو گا۔میں آپ کو اشارے سے بتا دونگا۔میں نے اسی وقت جاکر اسے دیکھ لیا۔واپسی پر دریا کے کنارے دعا کرتے ہوئے جا رہا تھا جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عبدالرحمن پٹھان بھی آرہا تھا۔میں بھی ذرا ہوشیار ہو گیا۔رہاں قبرستان کے قریب میں کھڑا ہو گیا۔جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے اسے السلام علیکم کہا۔اس نے وعلیکم السلام کہا۔میں نے کہا خان صاحب آپ کی طبیعت اچھی ہے؟ اس نے کہا اچھی ہے۔میں نے کہا آپ کا اسم شریف عبدالرحمان خان ہے؟ وہ بڑا حیران ہوا۔پوچھنے لگا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں خان ہوں اور عبدالرحمن ہوں۔میں نے کہا آپ جیسا میرا ایک دوست ہے جس کا نام کرنل عبدالرحمن خان ہے اس لئے محبت سے میں نے آپ کو اسی نام کا سمجھا۔وہ کہنے لگا میں تو آپ کا بڑا مخالف ہوں میں نے کہا میرے دل میں تو آپ کی محبت جوش مارتی ہے۔اب خدا تعالی ہی جانے اس کی کیا وجہ ہے۔میں تو آپ کے لئے ضرور دعا کروں گا۔خدا تعالی آپ کو ہدایت دے۔خان صاحب کہنے لگے کہ کیا میں ” ہے ہدایتا" ہوں؟ میں نے کہا کہ ہمارے آقا سردار دوجہاں سیدنا و مولانا محمد مصطفی باوجود سب انبیاء سے برتر ہونے کے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہے کہ اهدنا الصراط المستقیم یعنی میرے مولا جس مقام پر تو نے لا کھڑا کیا ہے اس سے بھی اوپر لے چل۔خانصاحب کہنے لگے کہ ہم کون ہیں جو یہ دعا چھوڑ کر بیٹھ جائیں۔مجھے سے پوچھنے لگے کہ کیا آپ رسول پاک ﷺ کو مانتے ہیں۔میں نے کہا کہ اس پاک رسول کو منوانے کے لئے ہی تو مرزا صاحب آئے اور اگر منادی کی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو صرف زبان سے ہی نہ مانو بلکہ دل سے مان کر حضور کی پیروی