میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 219
207 نه اسلامی شعار نہ اخلاق کی درستی کی طرف توجہ ہے اور نہ اسلامی تعلیم سے واقفیت ہے۔نہ نیک و بد کی تمیز ہی ہے تو اس لئے مجھے ایسی جماعت تلاش کرنی پڑی جو دین کی خدمت گزار ہو اور رسول پاک پر شار ہو۔سو الحمد للہ کہ ہمیں ایسی جماعت مل گئی۔دوکاندار صاحب بولے کہ اگر آپ کو ایسی جماعت مل گئی ہے تو اس کی مخالفت کیوں ہوتی ہے۔میں نے کہا کہ ایسی جماعتوں کی یہی شناخت ہوا کرتی ہے کیونکہ حضرت منصور ، حضرت حسین ، حضرت امام اعظم ، حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت بایزید بسطامی ، حضرت سرمد ، حضرت شاہ شمس تبریز حضرت مجدد الف ثانی وغیرہ سب کی مخالفت ان کی صداقت کی وجہ سے ہوتی آئی ہے۔اب اس کی مخالفت نہ ہو تو یہ سلسلہ سچا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔ہاں کنجروں ! چوروں ، بد معاشوں ، بے دینوں کی مخالفت نہیں ہوتی۔وہ خاموش ہو گیا اور میں کپڑا لیکر سخت مخالف کے پاس چلا گیا اور اس سے کہا کہ پہلے مجھے قمیص کی دو۔وہ کہنے لگا چار آنے لوں گا۔میں نے کہا بہت اچھا مگر بنوا کر یہاں ہی سے جاؤنگا۔وہ مان گیا۔وہ اور اس کے علاوہ چھ سات آدمی بھی میری باتیں سنتے رہے۔آخر میں درزی صاحب بولے کہ خوب تبلیغ کرلی ہے۔میں نے کہا کہ انہوں نے ایک سوال کیا تھا میں نے اس کا جواب ہی دیا ہے۔ایک اخون صاحب بولے (وہاں اخون ملوانے کو کہتے ہیں) که مولوی صاحب آپ کھانا کہاں سے کھاتے ہیں۔میں نے کہا جہاں سے میرے پیارے بزرگ سیدی امام حسین نے کربلا میں کھایا تھا۔وہ بڑا حیران ہوا۔دوبارہ پوچھا تو میں نے کہا کہ آج چوتھا دن ہے کھانا کھانا تو الگ۔کسی کو کھاتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔اخون صاحب بولے میں غریب آدمی ہوں آپ میرے ساتھ چلیں اور پہلے کھانا کھائیں ورنہ ایک عالم کا کسی شہر میں آکر بھوکا رہنا خدا کا غضب بھڑکانا ہے اور شہر والوں کی بد قسمتی ہے۔آپ اٹھیں۔وہ مجھے ہمراہ لیکر اپنے گھر پہنچ گیا۔ان