میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 211 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 211

199 پہلے تو ان اعتراضات کے جوابات تفصیل سے بیان کئے اور فرض سے سبکدوش ہوا جو مولویوں نے دو دن لگا کر احمدیوں پر کئے تھے۔پھر قرآن کریم ، حدیث شریف اور اقوال بزرگان است سے وفات مسیح ثابت کی۔نیز یہ بھی بتایا کہ میں خود دو مرتبہ سری نگر کشمیر محلہ خانیار میں مسیح کی قبر پر فاتحہ پڑھ آیا ہوں۔بعدہ امکان نبوت ختم نبوت اور صداقت حضرت مسیح موعود اور ان کی آمد کے نشانات قرآن ، حدیث انجیل اور بھگوت گیتا سے بیان کئے۔میری یہ تقریر تسلسل کے ساتھ رات ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہی۔اپنی سات گھنٹہ کی تقریر میں میں نے ان تمام احباب کی ہر مسئلہ میں اچھی طرح قبلی کرادی پھر ساڑھے آٹھ بجے دعا پر جلسہ ختم ہوا۔لطف کی بات یہ کہ اگر کوئی دوست جلسہ سے اٹھ کر گئے بھی تو بہت جلد واپس آنے کی کوشش کی۔جلسہ کے اختتام پر لوگ کہہ رہے تھے کہ حیرانگی کی بات ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر دودھ ولی کے سوائے بوقت ضرورت دو گھونٹ پانی کے یہ خدا کی دی ہوئی طاقت ہی ہو سکتی ہے۔جلسہ کے بعد سب ہندو اور غیر احمدی احباب مل کر اور مصافحہ کر کے گئے۔ہم سب احمدیوں نے رات وہیں گزاری۔رات میرے لئے کھانا ایک غیر احمدی دوست نے بھیج دیا اور باقی دوست اپنا اپنا کھانا کھا کر سو گئے۔اگلے دن سب نے اپنی اپنی منزل کی راہ لی۔ساج میں تبلیغی جلسہ راجوری گاؤں کے قریب ہی ساج گاؤں ہے۔جب وہاں کے لوگوں کو ہمارے راجوری والے جلسہ کے متعلق علم ہوا تو آگ بگولا ہو گئے اور کہنے لگے کہ راجوری والے بزدل لوگ ہیں۔اگر مرزائی ہمارے گاؤں سے بھی گزرے تو ہم جان سے نہ مار دیں تو ہمیں حرامی سمجھنا۔مجھے جب ان کی اس قسم کی گفتگو کا علم ہوا تو میں نے ایک احمدی دوست فرمان علی خانصاحب کو کالا بن سے بلوایا اور تاکید کی کہ آپ کی چونکہ سماج گاؤں میں