میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 210
198 مولوی حیات نے کہا کہ مرزا نے لکھا ہے کہ میں نے حضرت فاطمہ کے پٹ پر سر رکھ دیا۔اگر مولوی صاحب یہ الفاظ مرزا صاحب کی کسی کتاب میں دکھا دیں تو یہ دس روپے میں انہیں بطور انعام دیتا ہوں مگر وہ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔اس کے بعد میں نے وہ کشف سنا دیا۔لوگ یہ سن کر حیران ہو گئے۔میں نے کہا کہ ان کی ساری تقریر ہی جھوٹ کا پلندہ ہے۔تحصیل دار صاحب فورا کرسی صدارت سے اٹھ کر دری پر جا بیٹھے اور مرزا محمد حسین صاحب بی۔اے آف بھروٹ کو صدر بنا دیا۔وہ میرے قدرے واقف تھے۔انہوں نے صدارت سنبھالتے ہی یہ اعلان کر دیا کہ ہر تقریر نماز ، روزہ اور اصلاح نفس پر ہو گی۔دوسروں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہئے۔محمد حیات بیٹھ گیا۔پالک پر ہمارا رعب پڑ گیا کہ احمدی مولوی نے تحصیلدار صاحب کی صدارت ہی چھڑوا دی۔میں نے اعلان کر دیا کہ دو دن کے بعد ہمارا اعتراضات کے جوابات کے لئے اس جگہ یعنی اسی شہر میں جلسہ ہو گا۔مولویوں نے تو ہمیں وقت نہیں دیا مگر ہم سوال و جواب کے لئے وقت دیں گے۔اس کے بعد ایک غیر احمدی مولوی نے "نماز" کے موضوع پر تقریر کی اور جلسہ برخاست ہو گیا۔ہم نے جلسہ کروانے والوں کو پیغام بھیجا کہ آپ مولوی صاحبان کو دو دن تک نہ جانے دیں تاکہ وہ بھی ہمارے جواب سن کر جائیں اور اگر آپ ان کے خرچ سے گھبراتے ہیں تو دو دن کا خرچ ہم سے لے لیں۔مگر مولوی صاحب رات کے وقت ہی گھوڑوں پر تشریف لے گئے۔تیسرے دن ہمارے احمدی احباب چار کوٹ لوھار کہ کالا بن ، دھوڑیاں ، موہریاں ، ڈنہ بڑھانوں ، رہتال وغیرہ سے راتوں رات پہنچ گئے۔آتے وقت اپنا کھانا ساتھ لے آئے۔غیر احمدی اور ہندو بھی کافی تعداد میں آگئے۔کل چار پانچ سو کے قریب تعداد ہو گئی تھی۔دن کے ڈیڑھ بجے نماز ظہر و عصر سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے میں نے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔