میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 212 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 212

200 رشتہ داری ہے اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بڑھانوں سے ساتھ لے کر ساج جاؤ اور گاؤں کے درمیان میں ایک ایکڑ زمین مالیہ پر لے کر اس کی رسید ہمراہ لے آگئے۔- اؤ اور یہ ظاہر نہ کرنا کہ ہم نے جلسہ کرنا ہے۔وہ میری ہدایت پر وہاں گئے اور بہت اچھی جگہ کا انتخاب کر کے رسید ساتھ لے آئے۔میں نے جماعت کے افراد سے مشورہ کیا کہ سماج میں ضرور جلسہ ہونا چاہئے۔سب نے رضا مندی ظاہر اور کچھ چندہ بھی اکٹھا کیا۔جلسہ کی تاریخ مقرر کر کے تھانہ راجوری اور تھنہ میں اطلاع کر دی کہ اس تاریخ کو ہمارا ساج میں جلسہ ہو رہا ہے تا بعد کوئی اعتراض نہ کر سکیں۔اپنے سب احباب کو تاکید کردی کہ مقررہ تاریخ پر سب دوست مع ایک مضبوط لاٹھی کے آٹھ بجے صبح جلسہ گاہ میں پہنچ جائیں۔لہذا اس پر عمل ہوا۔دو سپاہی بھی ہم نے وہاں کے نمبردار صاحب کو جلسہ کا صدر مقرر کر لیا۔غیر احمدی احباب بھی بکثرت اکٹھے ہو گئے۔شوریدہ سر نوجوان بھی آگئے اور کہنے لگے کہ ہم اپنے کھیت میں جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔نمبردار صاحب کہنے لگے کہ یہ کھیت احمدیوں نے مالیہ پر لیا ہوا ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔میں نے کہا خانصاحب آپ ہمارے کھیت میں بیٹھیں۔اگر یہ کھیت آپ کا ہے تو ہم بھی آپ کے ہی مولوی ہیں۔آپ کو قرآن کریم سنانے آئے ہیں۔کوئی فکر والی بات نہیں ہے۔وہ بولے کہ ان کو اپنے ہمراہ کیوں لے کر آئے ہوئے ہو۔میں نے کہا کہ نہ تو پولیس والے میرا نام جانتے ہیں اور نہ ہی میں ان کے نام جانتا ہوں۔یہ تو ہماری تقاریر کے نوٹس لینے اور امن قائم رکھنے کے لئے آئے ہیں تاکہ مسلمانوں میں آپس میں ہی بد مزگی نہ پیدا ہو جائے کہ سپاہی بولے بالکل درست ہے۔ہم تو سرکاری آدمی ہیں یہاں آنے کا حکم ہوا تھا۔ہم پہنچ گئے ہیں۔ہم بھی جلسہ سن لیں گے۔اختلافی مسائل پر تین گھنٹہ میری تقریر جاری رہی جس میں واضح کر دیا تھا کہ کبھی کوئی شخص