میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 202
190 ہمیں آپ کا بڑا فکر ہے ہم تو روکھی سوکھی کھانے کے عادی ہیں مگر آپ کیا کریں گے۔میں نے کہا آپ اپنا فکر کریں اور مجھے آپ اللہ تعالی کا ہی مہمان رہنے دیں۔سو آج پہلے دن ہی انہیں اس چیز کا تجربہ ہو گیا کہ خدا تعالی کس طرح اپنے بندے کے لئے سلمان پیدا کرتا ہے۔اب غیر آباد علاقہ میں سفر ہو رہا تھا۔دور دور تک کوئی آبادی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔سب حیران تھے کہ اب کیا کیا جائے۔راستہ میں ایک مسافر سے ملاقات ہوئی۔اس نے بتایا کہ تین میل کے فاصلہ پر علی آباد کی سرائے ہے اور اس سے ایک میل جنوب کی طرف تین چار مکان بھی ہیں۔یہ سن کر قدرے دلیری ہوئی۔سورج غروب ہو چکا تھا اور اندھیرا بھی گھپ ہو رہا تھا۔آج کے دن کا سفر بھی میں میل کے قریب ہو گیا تھا۔تھکان کی وجہ سے مجھے بخار ہونے لگ گیا تھا۔بھوک، تھکان اندھیرا اور بخار جب یہ چاروں چیزیں اکٹھی ہو گئیں تو قریب سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ہم نے گھر والوں کو آواز دی کہ کتے باندھ لو انہوں نے کتے باندھ لئے۔میں ان کے گھر میں داخل ہو گیا۔انہوں نے میرے لئے ایک چارپائی خالی کر دی اور میرے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ یہاں سے لکڑیاں لے لو باہر چولہا ہے وہاں روٹی پکاؤ اور کھاؤ اور وہیں آرام بھی کرو۔تھوڑی دیر کے بعد میرے سامنے ایک پلیٹ چاولوں کی اور ساتھ گوشت لا کر رکھ دیا۔میں نے کہا چلول کچھ زیادہ ہیں۔کچھ چاول نکال لیں۔کہنے لگے آپ کی جتنی طبیعت چاہتی ہے کھا لیں۔ہمارے لئے کافی چاول باقی ہیں۔میں نے بھوک کے مطابق کھانا کھلایا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔نماز وغیرہ پڑھی تو وہ چائے لے آئے۔میرے ساتھی بھی کھانا کھا کر مجھے دہانے کے لئے آگئے اور خوب دبایا۔گھروالوں نے بھی دبانے میں حصہ لیا۔وہاں اس گھر میں مردد بچے کل دس افراد تھے اور ان کا جنگل میں بسیرا تھا۔انہیں اہم مہدی کے آنے کی اطلاع دی اور نماز روزہ کی تاکید