میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 203
191 کی۔رات بڑے سکون کے ساتھ گزر گئی۔صبح پھر گھر والوں نے میرے لئے جائے اور مکئی کی تازہ روٹی پکائی۔میں نے بھوک کے مطابق ناشتہ کیا۔میرے ساتھی بھی صبح ہی ناشتہ کر کے فارغ ہو چکے تھے۔ہم نے صبح ہی اگلے سفر کی تیاری کی اور چل دیئے۔راستے میں بڑے خطرے تھے۔برف کے پل بنے ہوئے تھے جن کے نیچے سے پانی بہہ رہا تھا۔اس برف کے پل پر سے لوگ اور چار پائے پانی عبور کرتے تھے۔تھوڑے فاصلہ پر علی آباد کی خیر آباد سرائے آگئی جو غالباً جہانگیر بادشاہ نے بنوائی تھی۔سفر کی زیادتی کی وجہ سے بخار بڑھ گیا اور بارش بھی ہونے لگی۔کیونکہ میرے ساتھیوں کے پاس کھانا وافر تھا میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے کمزوری کی وجہ سے مزید نہیں چلا جاتا اس لئے آج کسی گھنے درخت کے نیچے ہی بسیرا کر لیتے ہیں۔جنگل میں لکڑی بھی خوب ہے آگ جلا کر گزارہ کر لیں گے۔چنانچہ ایک بڑے سایہ دار درخت کے نیچے ڈیرے ڈال لئے۔نماز ظہر و عصر جمع کی گئیں۔نماز کے دوران ہی ایک عورت ادھر سے گزری۔بعد میں ہم لکڑیاں اکٹھی کر رہے تھے تو نیچے کی جانب سے ایک آدمی پکارنے لگا کہ ادھر آجاؤ۔ہم لوھر چلے گئے۔اس کا بڑا وسیع مکان تھا۔اس نے صحن میں میرے لئے چارپائی بچھوائی۔میں نے اپنے ساتھیوں سے بستر کروایا اور لیٹ گیا۔گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ مکان سرکاری ہے اور وہ جنگل کا رکھوالا ہے۔چند اور گھر بھی اس کے قریب آباد تھے۔میں نے اس کے ذریعے دوسرے گھر والوں کو پیغام دیا کہ شام کا کھانا کھانے کے بعد تمام مرد اس گھر میں تشریف لے آئیں۔اس گھر والے نے میرے لئے مرغی اور چاول تیار کروائے۔غرضیکہ بہت خدمت کی۔کھانا وغیرہ کھانے کے بعد نماز مغرب و عشاء ادا کی۔تھوڑی دیر کے بعد قریبی مکانوں سے پندرہ سولہ آدمی آگئے۔انہیں نماز و روزہ کی تاکید کی اور خوب خوشگوار ماحول میں انہیں تبلیغ کی۔وہ بھی بہت خوش ہوئے۔